اسلامی معارف

فاطمہ(س)؛ دریائے فضائل

فاطمہ(س)؛ دریائے فضائل

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ – بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَا يَبْغِيَانِ»؛ “اس نے دو دریا بہائے ہیں جو آپس میں مل جاتے ہیں- ان کے درمیان حد فاصلِ ہے کہ ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کر سکتے ہیں “(سورہ رحمن، آیت ۱۹ ۔ ۲۰)۔

حضرت امام جعفر صادقؑ نے متعدد اقوال میں فرمایا کہ “اس آیت میں دو سمندروں سے مرادحضرت علیؑ اور جناب فاطمہؑ ہیں۔ یہ دونوں ایسے دو عمیق سمندر ہیں جن میں سے کوئی ایک دوسرے کے حق میں تجاوز و ظلم نہیں کرسکتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان ایک واسطہ ہے جو کہ رسول اکرم ؐ کی ذات گرامی ہیں اور اس عمیق سمندر کے پھل امام حسنؑ اور امام حسینؑ ہیں”(تفسیر اهل بیتؑ، ج ۱۵، ص ۴۰۲) ۔

ان آیات کی تفسیر میں ایک بہترین روایت اس طرح بھی نقل ہوئی ہے کہ پیغمبراکرمؐ کے پاس عبدالرّحمن بن عوف زہری اور عثمان بن عفّان آئے۔ عبدالرّحمان نے کہا:

“اے رسول خداؐ ۔ کیا آپ میرے لیے آپ کی بیٹی فاطمہؑ کی شادی کا عقد پڑھیں گے؟ میں مہر کے لئے سو سیاہ رنگ کی مادہ اونٹی اور نیلی آنکھوں والے اونٹ دوں گا، جن پر مصر کے سفید کپڑے لدے ہوئے ہوں گے اور ساتھ میں دس ہزار دینار بھی دوں گا “۔

عبدالرّحمان اور عثمان  دونوں ہی کیونکہ بہت زیادہ دولت مند تھے۔ اس لئے عثمان نے  بھی کہا: “میں بھی اتنی ہی رقم دوں گا اور میں عبدالرّحمان سے پہلے مسلمان بھی ہوا ہوں “۔

رسول  اکرم ؐ، ان دونوں کی باتوں کو سن کر بہت زیادہ ناراض ہوئے اور ایک مٹھی کنکریاں اٹھاکر ان کی طرف پھینکیں اور فرمایا: “کیا تم دونوں اپنے مال سے مجھے ڈرا رہے ہو؟” اتنا کہتے ہی کنکریاں بڑے بڑے موتیوں میں تبدیل ہوگئیں اور جب ان موتیوں کی قیمت کی گئی تو ہر موتی کی قیمت ان کی تمام دولت کے برابر تھی۔

اسی وقت حضرت جبرئیلؑ نازل ہوئے اور کہا: “اے احمدؐ! اللہ تعالیٰ، آپؐ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: “علیؑ ابن ابی طالبؑ کے پاس جائیے کیونکہ ان کی مثال کعبہ جیسی ہے جس کی طرف لوگ “حج” کے لئے جاتے ہیں اور وہ کسی کے پاس نہیں جاتا ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں جنت کے خزانہ دار “رضوان جنت” سے کہوں کہ وہ جنت کے چار باغوں کو سجا ئے اور “درخت طوبیٰ” اور “سدرۃ المنتهی” کو حکم دیا کہ نئے زیور اور لباس اختیار کریں اور “حورالعین” کو حکم دیا کہ وہ آراستہ ہوکر “درخت طوبی” اور “سدرۃ المنتهی” کے نیچے کھڑی ہوں۔

اور ایک فرشتہ جس کا نام “راحیل” ہے اور جو فرشتوں میں سب سے زیادہ بولنے والا، شیریں زبان اور خوبصورت ہے، اس کو حکم دیا کہ وہ عرش کے کنارے حاضر ہو جائے۔ جب تمام فرشتے حاضر ہوگئے تو مجھے حکم دیا کہ میں نور کا ایک منبر نصب کروں اور راحیل کو کہا کہ وہ اس پر جائے؛ (اس کے بعد وہ اس پر گیا اور) اس نے عقد نکاح کے لئے ایک فصیح خطبہ پڑھا اور پھر حضرت فاطمہ زہراؑ اور حضرت علیؑ کا عقد نکاح پڑھا گیا اور مہر میں قیامت تک کے لئے دنیا کے “خمس” کو فاطمہ ؑ اور ان کی اولاد کے لئے قراردیا۔

میں اور میکائیلؑ اس عقد کے گواہ بنے اور خود اللہ تعالیٰ، حضرت فاطمہؑ کا ولی تھا اور درخت طوبی اور سدرۃ المنتهی کو حکم دیا کہ جو کچھ ان دونوں کے پاس زیورات، نئے لباس اور عطر میں سے ہیں، اسے تقسیم کردیں اور حوروں کو حکم دیا کہ وہ اسے لے لیں اور قیامت تک اس پر فخر کریں۔

اللہ تعالیٰ نے اسی طرح آپؐ کو حکم دیا ہے زمین پر حضرت فاطمہؑ کا عقد آپؐ خود پڑھیں۔

اور عثمان سے کہیے کہ: کیا تو نے قرآن میں میری بات نہیں سنی: «مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیانِ بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا یَبْغِیانِ؟» ۔ اسی طرح کہیے کہ کیا تو نے قرآن میں میری یہ بات نہیں سنی کہ: «وَ هُوَ الَّذِی خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً فَجَعَلَهُ نَسَباً وَ صِهْراً؟»؛ “اور وہی وہ ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا ہے اور پھر اس کو خاندان اور سسرال والا بنا دیا ہے”(فرقان، آیت ۵۴) ۔ (یعنی ان آیات کے مصداق حضرت علیؑ اور فاطمہ زہراؑ اور پیامبراکرم(ص) کی ذات ہیں، دوسرے اس فضیلت میں شامل نہیں ہوسکتے ہیں)۔

جب رسول خدا ؐنے جناب جبرئیلؑ کی یہ بات سنیں تو عمّار بن یاسر، سلمان اور عبّاس کو بلایا اور حضرت علیؑ سے فرمایا کہ “اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں (اپنی بیٹی فاطمہؑ سےتمہارا عقد نکاح پڑھوں “(تفسیر اهل بیتؑ، ج ۱۵، ص ۴۰۴؛ دلایل الإمامه، ص ۱۲) ۔

مذکورہ آیات اور روایات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہراؑ اور حضرت امام علیؑ کو اللہ تعالیٰ نے فضیلتوں کے دو بہترین سمندر بنایا ہے اور آپ کا خانوادہ بہترین خانوادہ ہے اور آپؑ دونوں کا عقد بھی اللہ تعالیٰ نے خود پڑھوایا ہے اور زمین پر حکم الہی سے خود رسول خداؐ نے پڑھا ہے ۔ لہذا حضرت فاطمہ زہراؑ کی برابری کوئی بھی نہیں کرسکتا ہے۔ اور سوائے امیرالمومنین علی ابن ابی طالبؑ کے کسی میں آپؑ کے ہم شان  اور ہم کفو ہونے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اور بھی متعدد روایات ہیں۔ جن کا ذکر یہاں نہیں کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

تبصره کریں

Back to top button