
فاطمه(س)؛ مشکاتِ نور
فاطمه(س)؛ مشکاتِ نور
قرآن مجید میں اللہ کے نور کی وضاحت کے لیے ایک مثال پیش کی گئی ہے: «اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ…» “…اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے؛ اس کے نور کی مثال اس طاق کی ہے جس میں چراغ ہو اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو…”۔ (سورہ نور، آیت ۳۵) ۔
آیت میں اللہ کے نور کی مثال ایک چراغدان سے دی ہے جس میں چراغ رکھا ہوا ہو اور وہ چراغ شیشہ کی ایک قندیل میں ہو۔ اس آیت کے بارے میں راوی کہتا ہے کہ میں نے امام صادقؑ سے پوچھا کہ اس سے کون مراد ہے تو فرمایا: “وہ چراغدان فاطمہ ؑ ہیں اور چراغ حضرت امام حسنؑ اور وہ فانوس (قندیل) حضرت امام حسینؑ ہیں (مناقب الامام علیؑ ابن ابی طالبؑ، ابن مغازلی، ج3، ۳۶۱)
آیت اور روایت کا یہ بیان حقیقت میں حضرت فاطمہ زہراؑ اور آپؑ کے فرزندوںؑ کےاعلیٰ اور بلند مقام کی طرف اشارہ کررہاہے۔



