اسلامی معارف

فاطمه(س)؛ شاخِ طیبہ

فاطمه(س)؛ شاخِ طیبہ

خداوندمتعال قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

«أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُها ثابِتٌ وَ فَرْعُها فِي السَّماءِ»؛

“کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح “کلمہ طیبہ “کی مثال “شجرہ طیبہ” سے بیان کی ہے جس کی اصل ثابت ہے اور اس کی شاخ آسمان تک پہنچی ہوئی ہے “(سورہ ابراہیم، آیت ۲۴) ۔

روایت کے مطابق حضرت امام باقر ؑ نے فرمایا:

اس آیت میں “درخت” سے مراد حضرت محمدمصطفی ؐ ہے اور اس درخت کا “تنہ” حضرت علیؑ ہے اور اس کے “پھل” امام امام حسنؑ اور امام حسینؑ ہیں اور اس کی “اصلی شاخ “حضرت فاطمہ زہراؑ اور فرعی و جزئی شاخیں ائمہ اطہارؑ ہیں “

(شواہدالتنزیل حاکم حسکانی، ج ۱، ص ۳۱۱؛ بحارالانوار مجلسی، ج ۲۴، ص ۱۳۹)۔

 

متعلقہ مضامین

تبصره کریں

Back to top button