
فاطمه(س)؛ ستارہ ہدایت
فاطمه(س)؛ ستارہ ہدایت
سورہ نور کی آیت ۳۵ میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
«…كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ …»
“… اور قندیل ایک جگمگاتے ستارے کے مانند ہو جو زیتون کے بابرکت درخت سے روشن کیا جائے “۔
حضرت امام صادقؑ کے ارشاد کے مطابق آیت کے اس جملے میں” کوکب درّی یعنی چکمتے ہوئے ستارے ” سے مراد حضرت فاطمہ زہراؑ کی ذات ہے اس لئے کہ “کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ بَیْنَ نِسَاءِ أَهْلِ الدُّنْیَا وَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّهْ ” آپ ؑدنیا اور جنت کی تمام عورتوں کے درمیان ایک چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہیں”۔ (بحارالانوار مجلسی، ج ۲۳، ص ۳۰۴؛ مناقب الامام علیؑ ابن ابی طالبؑ، ابن مغازلی، چ ۳، ص ۳۶۱-۳۶۳) ۔
اس آیت اور حدیث کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ شہزادی کائنات ہدایت الہی کا روشن ستارہ ہے۔ اور آپ کی شخصیت اور طرز زندگی کی روشنی میں انسان نجات، سعادت اور کامیابی کے بلند مقام تک پہنچ سکتا ہے جس کا ذکر دیگر بہت سی احادیث میں واضح طور پر آیا ہے۔




