اسلامی معارف

فاطمہ(س)؛نصاب امتحان الہی

فاطمہ(س)؛نصاب امتحان الہی

قرآن مجید کے سورہ مدثر کی آیت ۳۵ -۳۶ میں ارشاد ہوتا ہے کہ:

«إِنَّها لِأَحْدَى الْكُبَرِ – نَذِيراً لِلْبَشَرِ»؛”بیشک قیامت کے ہولناک حادثے بہت سخت ہیں جو انسانوں کے لئے ڈرانے والے ہیں “۔

اس آیت کے ذیل میں بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن انسانوں کا عظیم امتحان ہوگا جس کے مختلف موضوع ہونگے ان میں سے ایک مسئلہ و موضوع “حضرت فاطمہ زہراؑ” ہونگی؛ جیسا کہ امام محمد باقرؑ نے فرمایا:

«إِنَّها لَإِحْدَی الْکُبَرِ نَذِیراً لِلْبَشَرِ قَالَ یَعْنِی فَاطِمَهْؑ»؛ اس آیت میں اہم مسئلہ جو تمام انسانوں کے لئے ایک ڈرانے اور ہوشیار کرنے کا مورد ہے حضرت فاطمہ زہراؑ ہیں (بحارالانوار مجلسی، ج ۲۴، ص ۳۳۱ ۔ تفسیر قمی، ج ۲، ص ۳۹۶) ۔

معلوم ہوا ہے حضرت فاطمہ زہراؑ ” کُبَر ” کا مصداق ہیں اور آپؑ ایک بزرگ ذات ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ دوسری روایت کے مطابق “ولایت ” کو بھی یہاں ” کُبَر ” قیامت کے عظیم مسائل و موضوعات میں سے بیان کیا گیا ہے (الکافی، ج ۱، ص ۴۳۴) ۔

متعلقہ مضامین

تبصره کریں

Back to top button