اسلامی معارفسیرت معصومین(ع)کتابخانه بنیاد

مسجد میں حضرت فاطمہ(س) کا خطبہ

حضرت فاطمہ زہرا (علیہا السلام) کے طرز زندگی کی ایک مثال (2)

     حضرت فاطمہ زہرا (علیہا السلام) مسجد میں تشریف لے جاتی ہیں، جہاں وہ دل کی گہرائی سے گریہ و زاری فرماتی ہیں جس کو سن کر سب رونے لگتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد پر سکون ہو جاتی ہیں اور مجمع کی خاموشی کے لئے کچھ دیر چپ رہتی ہیں۔

    پھر آپ الہی و آسمانی معارف و تعلیمات پر مشتمل ایک طولانی خطبہ دیتی ہیں جس میں آیات، روایات اور عقلی دلائل کا استعمال کرتے ہوئے اپنے غصب شدہ حق کو ثابت کرتی ہیں اور مخالفین کے انحراف کو واضح فرماتی ہیں۔ اس خطبہ کو “خطبۂ فدکیہ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

     اس خطبہ میں حضرت زہرا(علیہاالسلام) نے اپنی تقریر کا آغاز خدا کی حمد اور رسول اللہ(ص) پر تحیت و سلام سے کیا اور اس کے بعد بہت سے مطالب بیان فرمائے جن میں بلند آسمانی تعلیمات، خاندانِ رسول پر ظلم و ستم کی داستان اور اہل بیتؑ کے حقوق کے تحفظ کا دفاع شامل ہے۔

      اس خطبہ کا رنگ و لحن وحی کی طرح تھا جس کے ذریعہ بی بی زہرا(س) نے تمام لوگوں پر اپنی حقانیت کو ثابت کرنے اور حجت کو تمام کرنے کے لئے آواز اٹھائی تھی۔

     خطبۂ فدکیہ کو غور سے پڑھنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے کیونکہ اس میں حق اور حقیقت کو تلاش کرنے والوں کے لیے بہت سے حقائق ہیں۔

متعلقہ مضامین

تبصره کریں

Back to top button
×