علامه رضوی(ره)علامہ رضوی(ره) کے قلمی آثار

حفاظت اسلام میں صلح امام حسن (علیہ السلام) کا کردار

رئیس المبلغین علامہ سید سعید اختر رضوی(رہ) کی کتاب "کربلاشناسی" سے اقتباس

حفاظت اسلام میں صلح امام حسن علیہ السلام کا کردار

اس مختصر تحریر میں مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب پیش ہیں:

خدائی حکومت کے قیام کے ناممکن ہونے پر امام حسن  علیہ السلام نے کیا اقدام فرمایا؟

کیا امامت الہی سیاسی طاقت پر مبنی ہے؟

صلح امام حسن علیہ السلام نے سچے مومنین کو دنیاوی سیاست کی قلابازیوں سے کیسے محفوظ کر دیا؟

علامہ سید سعید اختر رضوی(رہ) اپنی کتاب “کربلا شناسی” میں پیغمبر اسلام (ص) کے بعد   مسلمانوں اور اسلامی حکومت کے راہ حق و ہدایت اور اصلی اسلامی اصولوں سے انحراف کا  تجزیہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

“…امام حسن (علیہ السلام) نے ، جو اپنے والد کی شہادت کے بعد اللہ کے نمائندے تھے، یہ محسوس کیا کہ مسلمانوں کی بیماری اب اس منزل پر پہونچ چکی ہے، جہاں اس کے علاج کی کوئی امید باقی نہیں رہی ہے۔ بددیانتی ان کا ایمان، غدّاری ان کی وفا، دولت ان کی واحد محبوبہ اور ذاتی منفعت ان کا واحد مطمع نظر تھا۔ اب یہ ناممکنات سے تھا کہ ان کے درمیان خدائی حکومت پھر سے قائم کی جاسکے۔

امام حسن (علیہ السلام) کے سامنے اب سب سے اہم سوال یہ آیا کہ اسلام کے اصول کی حفاظت کیسے ہو؟ سابق کے بادشاہوں نے رسول(ص) کے اقتدار اعلیٰ کے اعتقاد کو بادشاہوں کے اقتدار اعلیٰ کے اعتقاد میں بدل دیا تھا۔ ان لوگوں نے اس غلط عقیدہ سے فائدہ اٹھایا اور دنیا سے رخصت ہوئے، لیکن اسلام کو انتشار سے دوچار کرکے اس غلط اعتقاد کا باقی رہنا اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ تھا۔ اب جبکہ الہی حکومت کو پھر سے قائم کرنا ناممکن  تھا۔ صرف ایک ہی صورت رہ گئی تھی کہ لوگوں کو یہ بتا دیا جائے کہ دنیاوی حکمرانی اور مذہبی رہنمائی ایک نہیں بلکہ دو الگ الگ چیزیں ہیں اور یہ کہ مذہب کی محافظت اور ترجمانی کی ذمہ داری اللہ کی طرف سے سپرد کیجاتی ہے۔ یہ بادشاہت نہیں ہے جو لوگوں کی عطا کردہ ہو، مقصد یہ ہے کہ لوگ ایک بار پھر دیکھ لیں کہ مذہب  تاج و تخت کے ساتھ بندھا ہوا نہیں ہے۔

حضرت علی (علیہ السلام ) کے بعد صرف امام حسن (علیہ السلام) اور امام حسین (علیہ السلام) اس کا م کو انجام دے سکتے تھے۔  وہ بے شمار خصائص کے مالک تھے، عوام یا فوج کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ اور رسول(ص) کی طرف سے ارشاد قرآنی کے مطابق وہ دونوں “رسول(ص) کے بیٹے تھے”۔ “ان کی مودت اور احترام مسلمانوں پر فرض تھا”۔ “وہ ہر رجس سے پاک تھے”۔ اور “ان سے کسی غلطی کا ارتکاب ممکن نہ تھا”۔ “وہ سردار جوانان جنت تھے”۔ اور لوگوں پر ان کی فرماں برداری فرض تھی کیونکہ “وہ امام تھے چاہے وہ بیٹھے ہوں یا کھڑے ہوں “یعنی چاہے وہ صلح کریں یا جنگ۔

اندریں حالات ان کے اختیارات ہر حالت میں مسلّم تھے ، چونکہ ان کی امامت سیاسی طاقت پر مبنی نہ تھی اس لئے وہ آسانی سے بے خوف و خطر مقتضائے حال کے مطابق حکومت کو ٹھکرابھی سکتے تھے اور حکومت وقت کی مخالفت بھی کرسکتے تھے۔

اس لئے علیؑ و فاطمہؑ کے دلبندوں نے اللہ اور رسول(ص) کے عطا کردہ کامل اختیار کے ساتھ ایک ایسا راستہ اختیار کیا جس سے مذہب کی گردن حکمرانوں کے آہنی چنگل سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جائے۔ اولا امام حسن (علیہ السلام) نے سیاسی طاقت  کو چھوڑ دیا اور یہ دکھا دیا کہ ان کا مذہبی منصب حکومت کا مرہون منت نہیں ہے۔ امام حسن(علیہ السلام)کے اس اقدام سے یہ سب سے بڑا فائدہ ہوا کہ مسلم عوام کا نقظۂ نظر مذہب اور حکومت کے باہمی تعلق کے متعلق بدلنے لگا…  معاویہ نے انتہائی کوشش کی کہ اسلام کے بہت سے اصولوں کو بدل دیا جائے مگر وہ ناکام رہا۔ اگر وہی تبدیلیاں اور بدعتیں سابق کے تینوں خلفاء کے زمانے میں ہوتیں تو مسلم عوام اس کو قبول کر لئے ہوتے۔ لیکن اب امام حسن(علیہ السلام)سامنے آچکے تھے۔ اور یہ تخیل پاش پاش ہوچکا تھا کہ مذہب حکومت کا دست نگر(اشاروں پر چلنے والا)ہے۔ اس وجہ سے معاویہ کچھ زیادہ کامیاب نہ ہوسکا۔ بلکہ آج بہت سے سنّی ہیں جو اسے خلیفہ تک ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں(علامہ رضوی(رہ)، کتاب کربلا شناسی، ص19-21)۔

علاوہ رضوی(رہ)، اہل سنت کی کتابوں سے مزید چند صفحات میں معاویہ کی جانب سے اسلامی اصولوں اور احکام میں تبدیلیوں کی مثالیں پیش کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ:

“یہ چند مثالیں صاف طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ معاویہ نے کس طرح نہ صرف عبادت میں بلکہ اسلام کے ہر شعبہ میں تبدیلی کرنی چاہی، اگر وہ پوری طرح اس میں کامیاب نہ ہوسکا تو اس کی واحد  وجہ امام حسن (علیہ السلام) کی الہی سیاست تھی … امام حسن (علیہ السلام) کی سیاست اس حیثیت سے بھی کامیاب رہی کہ اس کی وجہ سے سچے مومنین اور منافقین میں پوری طرح تمیز ہوگئی۔ امام حسن (علیہ السلام) کے پدر بزرگوار کی زندگی کے آخری چار برسوں میں سب مسلمان ان کو مسلّم حکومت کا سربراہ مان رہے تھے، ان میں کچھ لوگ وہ تھے جو آپ کو منصوص من اللہ کی حیثیت سے مانتے تھے اور اکثریت ان کی تھی جو آپ کواجماعی خلیفہ مانتے تھے، مختلف نظریات رکھنے والے آدمیوں کے اس جم غفیر سے دین کو کوئی فائدہ نہ تھا، جیسا کہ حالات نے پوری طرح ظاہر کردیا۔ معاویہ کے ساتھ امام حسن (علیہ السلام)کی مصالحت نے اس بےیقینی کی کیفیت کو ختم کردیا اور امام حسن (علیہ السلام) کے ساتھ اب صرف وہی سچے مومنین رہ گئے جن کا عقیدہ دنیاوی سیاست کی قلابازیوں کے ساتھ بدلنے والا نہ تھا…”

(ماخوذ از کتاب کربلا شناسی، ص۲۷)۔

متعلقہ مضامین

تبصره کریں

Back to top button
×