جواد الائمہ، امام محمد تقی علیہ السلام کی جود و سخاوت پر ایک اجمالی نظر (قسط اول)
تحریر: مولانا سید معظم حسین زیدی صاحب۔ طالب علم جامعۃ المصطفی(ص) العالمیہ۔ قم ایران
فہرست مندرجات
جواد، خدا کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام
دعاؤں میں صفت “جواد” کا واسطہ
امام محمد تقی علیہ السلام، جود الٰہی کے مظہر
عہد طفولیت میں آپ کی جود و سخاوت
خراسان سے امام رضا کا ایک خاص خط
امام رضا علیہ السلام کا ایک اور اہم خط
(قسط اول)
جود و بخشش، بذل و انفاق، محتاجوں اور بے نواؤں کی دست گیری انبیاء اور اولیاء الہی کا زندگی کا خاصہ رہا ہے. قرآن مجید کی آیات اور احادیث معصومین نے بھی مختلف عناوین کے تحت ہمیں ان امور کی سفارش اور تاکید کی ہے. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی زندگانی اس سلسلے میں ہمارے لئے بہترین اسوہ اور نمونہ ہے. مقالۂ حاضر میں انہیں اہل بیت علیہم السلام کی ایک خاص فرد امام محمد تقی علیہ السّلام کی زندگی پر مختصر روشنی ڈالی جائے گی، جنہوں نے دیگر ائمہ علیہم السلام کی بہ نسبت اس دنیائے فانی میں کم عمر گذاری اور جوانی کے عالم میں شہید کر دیئے گئے مگر کثرتِ جود و سخا کی بنیاد پر “جواد” اور “جواد الائمہ” کے لقب سے معروف ہوئے.
آپ رسول خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے نویں جانشین و خلیفہ اور شیعوں کے نویں امام ہیں. آپ کا اسم گرامی محمد اور کنیت ابو جعفر (الثانی) ہے. آپ کی تاریخ ولادت ۱۰ رجب ۱۹۵ هجری اور مدت امامت ۱۸ سال ہے. آپ کی عمر مبارک اس وقت سات سال تھی جب آپ کے والد گرامی حضرت امام رضا علیہ السلام خراسان میں شہید کئے گئے. آپ امام رضا علیہ السلام کے اکلوتے فرزند ہیں(شیخ مفید، الارشاد، ٣١٦؛ رجال کشی(اختيار معرفة الرجال)، ابوعمرو محمد بن عمر کشى (تلخیص شیخ طوسی)، ص ۵۹۶ حدیث ۱۱۱۵؛ ابن شہر آشوب مازندرانی، المناقب(مناقب آل أبی طالب)، ج٤، ص ٣٦٧؛ فضل بن حسن طبرَسی، اعلام الوری باعلام الهدی، ج۲، ص۸۶).
آپ کمسنی کے عالم میں عہدۂ امامت پر فائز ہونے والے سب سے پہلے امام ہیں. اسی طرح سے آپ وہ واحد امام ہیں جو عین جوانی کے عالم میں شہید کئے گئے. آپ کی تاریخ شہادت، آخر ذیقعدہ ۲۲۰ ہجری ہے(شیخ مفید الارشاد، ص ۶۱۵؛ فضل بن حسن طبرَسی، اعلام الوری باعلام الهدی، ج۲، ص ۱۰۶). شہادت کے وقت آپ کی عمر مبارک محض ۲۵ برس تھی.
کتب تاریخ و احادیث میں آپ کے متعدد القاب ذکر کئے گئے ہیں، جیسے صادق، صابر، فاضل، مختار، مرضی، تقی، زکی، متقی، جواد، قانع، ہادی، وصی، منتجب، مرتضی، عالم ربانی، قرة اعین المؤمنین، غیظ الملحدین (شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا علیہ السلام، ج٢، ص ٢٥٠؛ محمد بن جریر بن رستم طبری، دلائل الامامۃ، ص ٣٩٦؛ مہدی اسماعیلی؛ سید ابوالفضل طباطبائی اشکذری، اعجوبۃ اہل البیت ع، ص ۲۵ و ٢٦).
بعض علماء نے آپ کے القاب میں “باب المراد” کا بھی ذکر کیا ہے جو عامہ مسلمین کی طرف سے اس اعتقاد کی وجہ سے دیا گیا کہ آپ اللہ کی رحمت کے دروازے ہیں ان لوگوں کے لئے جو دنیاوی مشکلات اور مصائب کا شکار ہو کر آپ کے حضور میں پناہ لیتے ہیں اور آپ ان کی مرادیں پوری اور حاجتیں برآوردہ کرتے ہیں(باقر شریف قرشی، حیاۃ الامام محمد الجواد علیہ السلام، ص ٢٤).
مذکورہ القاب میں آپ کا سب سے زیادہ مشہور لقب، تقی اور جواد ہے جو آپ کی زندگی میں شدت و وفور تقوی کی دلیل اور آپ کی کثرت جود و سخا اور وسیع بخشش و عطا کی علامت و نشانی ہے.
جواد ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی لغت میں کچھ اس طرح بیان ہوئے ہیں: السَّخِيّ و السَّخِيَّة، أَي الذَّكر و الأُنثَى سواءٌ؛ هو الّذي يُعطي بلا مَسأَلة صيانةً للآخِذ من ذُلِّ السُّؤال؛ جواد، سخی مرد اور سخی خاتون کو کہا جاتا ہے؛ یہ لفظ مذکر و مونث دونوں کے لئے مساوی طور پر ایک ہی شکل میں (لفظ جواد کی صورت میں) استعمال ہوتا ہے. درحقیقت جواد کا لفظ اس فرد پر اطلاق ہوتا ہے جو بغیر سوال کے عطا کر دے(یا سوال کرنے سے پہلے عطا کرے) وہ بھی اس طرح سے کہ سائل کے چہرے پر آثار شرمندگی بھی نمایاں نہ ہونے پائے(سید مرتضى حسینى زبيدى، تاج العروس من جواهر القاموس ، ج ۴ ، ص ۳۰۴).
جواد، خدا کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام
خداوند عالم نے قرآن مجید میں ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالی کے اسماء ہی بہترین اسماء ہیں لہذا اسے انہی اسماء سے پکارا جائے؛ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:
وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ؛ اور اللہ ہی کے لئے بہترین نام ہیں لہذا اسے ان ہی (اسمائے حسنیٰ) کے ذریعہ پکارو(سوره اعراف، آیت ۱۸۰).
مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں متعدد اسماء و صفات الہی کا تذکرہ کرتے ہوئے نام جواد کو بھی انہی اسماء کا ایک جزء مانا ہے(علامہ طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، ج٨، ص ٣٤٠ و ٣٤١؛ فضل بن حسن طبرسی، مجمع البیان، ج٤، ص ٧٧٣؛ محسن قرائتی، تفسیر نور، ج۳، ص ٢٢٦).
اسی طرح بعض بزرگ محدثین جیسا کہ شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی دو اہم کتب حدیثی میں جہاں روایات اہل بیت علیہم السلام کی روشنی میں خدا کے اسماء و صفات کی توضیح اور خاص کر خداوند عالم کے مشہور ننانوے ناموں کی تفصیل بیان کی ہے، وہاں پر امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک اہم حدیث کو نقل کیا ہے؛ جس میں خدا کے ننانوے نام منجملہ نام جواد کا تذکرہ موجود ہے(رجوع کریں: شیخ صدوق، التوحید: ج۱، ص ۱۹۴؛ شیخ صدوق، الخصال: ج۲، ص ۵۹۳).
دعاؤں میں صفت “جواد” کا واسطہ
شاید سورہ اعراف کی مذکورہ بالا آیت اور اس میں موجود دستور کے سبب ہی ہماری زیادہ تر دعاؤں میں، خاص کر ان دعائوں میں جو معصومین علیہم السلام سے مأثور ہیں، خداوند عالم کو اس کے اسمائے حسنیٰ کے ذریعے پکارا گیا ہے. ذیل میں بعض دعاؤں کے وہ جملات پیش کئے جا رہے ہیں جن میں خدا کی بارگاہ میں اس کے خاص نام جواد کے وسیلے سے دعا کی گئی ہے:
دعائے جوشن کبیر (مروی از رسول خدا(ص) ، بہ نقل امام زین العابدین علیہ السلام):
يَا أَجْوَدَ مِنْ كُلِّ جَوادٍ؛ ٤٥ واں فراز(ابراہیم بن علی عاملی کفعمی، مصباح كفعمي(جنۃ الأمان الواقيۃ)، ص ۲۵۳).
یا جَواداً لا یَبْخَلُ؛ ١٠٠ واں فراز(ابراہیم بن علی عاملی کفعمی، مصباح كفعمي(جنۃ الأمان الواقيۃ)، ص ۲۶۰).
دعای عظیم الشأن، (مروی از امام علی علیہ السلام):
أَنْتَ الْجَوَادُ وَ أَنَا الْبَخِيل. (ابراهيم بن علی عاملی کفعمی، مصباح كفعمي(جنۃ الأمان الواقيۃ)، ص ٢٨٨).
مناجات امیر المؤمنین در مسجد کوفہ:
مَوْلَايَ يَا مَوْلَايَ أَنْتَ الْجَوَادُ وَ أَنَا الْبَخِيلُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الْبَخِيلَ إِلَّا الْجَوَاد(علامہ مجلسی، زاد المعاد، ص ٤٩٤).
دعائے عرفہ (امام حسین علیہ السلام):
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِقَضَائِهِ دَافِعٌ وَ لَا لِعَطَائِهِ مَانِعٌ وَ لَا كَصُنْعِهِ صُنْعُ صَانِعٍ وَ هُوَ الْجَوَادُ الْوَاسِع(سید ابن طاؤوس، إقبال الأعمال، ج١، ص ۳۳۹).
وَ أَنْتَ الْجَوَادُ الْكَرِيمُ الرَّءُوفُ الرَّحِيمُ أَوْسِعْ عَلَيَّ مِنْ رِزْقِكَ وَ عَافِنِي فِي بَدَنِي وَ دِينِي وَ آمِنْ خَوْفِي وَ أَعْتِقْ رَقَبَتِي مِنَ النَّار(سید ابن طاؤوس، إقبال الأعمال، ج١، ص٣٤٧).
وَ أَنْتَ الْجَوَادُ بِالْعَطَاءِ قَبْلَ طَلَبِ الطَّالِبِين(سید ابن طاؤوس، إقبال الأعمال، ج١، ص ٣٥٠).
صحیفہ سجادیہ (امام زین العابدین علیہ السلام):
إِنَّكَ جَوَادٌ كَرِيمٌ. دعا:٣ (دعاء حملۃ العرش).
إِنَّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ، وَ أَنْتَ الْجَوَادُ الْكَرِيمُ. دعا: ٣٠ (دعاء قضای دین).
وَ أَنْتَ الْمَلِيءُ بِمَا رُغِبَ فِيهِ إِلَيْكَ، الْجَوَادُ بِمَا سُئِلْتَ مِنْ فَضْلِكَ. دعا: ٤٥ (دعاء وداع ماه رمضان)
سُبْحَانَكَ! مِنْ مَلِيكٍ مَا أَمْنَعَكَ، وَ جَوَادٍ مَا أَوْسَعَكَ، وَ رَفِيعٍ مَا أَرْفَعَكَ! دعا: ٤٧ (دعاء روز عرفہ).
دعائے ابوحمزه ثمالی (امام زین العابدین علیہ السلام):
وَ أَنْتَ الْجَوَادُ الَّذِي لَا يَضِيقُ عَفْوُكَ وَ لَا يَنْقُصُ فَضْلُكَ وَ لَا تَقِلُّ رَحْمَتُك(علامہ مجلسی، زاد المعاد ص ٩٥).
دعای افتتاح (امام زمانہ عج):
فَارْحَمْ عَبْدَكَ الْجَاهِلَ وَ جُدْ عَلَيْهِ بِفَضْلِ إِحْسَانِكَ إِنَّكَ جَوَادٌ كَرِيم. (سید ابن طاؤوس،إقبال الأعمال، ج١، ص ٥٩؛ علامہ مجلسی، زاد المعاد ص ٨٧).
ان دعاؤں اور ان جیسی دیگر مأثور دعاؤں کے ذریعے ائمہ معصومین علیہم الصلوۃ والسلام نے دنیا والوں کے سامنے سورہ اعراف کی مذکورہ بالا آیت کی عملی تفسیر پیش کرتے ہوئے خداوند عالم کی بارگاہ میں التجا کا سلیقہ اور دعا کرنے کا طریقہ سکھایا ہے.
امام محمد تقی علیہ السلام، جود الٰہی کے مظہر
ائمہ معصومین علیہم الصلوۃ والسلام خلفاء الٰہی اور زمین پر اس کی آیت اور نشانی ہونے کے ناطے، صفات جمالیہ و جلالیہ الٰہی کے مظہر بھی ہیں. امام محمد تقی علیہ السلام کا وجود مبارک بھی انہی ذوات مقدسہ کی ایک فرد ہے، جن کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ آپ جود و عطا کے بے مثال پیکر تھے. آپ کی سخاوت اور مہربانی اس قدر مشہور تھی کہ لوگ آپ کو “جواد” کے لقب سے یاد کرتے تھے، جس کے لئے اوپر ذکر ہوا کہ پروردگار کے اسمائے حسنیٰ اور خوبصورت ناموں میں سے ایک ہے.
سورہ اعراف کی مذکورہ بالا آیت کے سلسلے میں تفسیر البرہان میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہوئی ہے، جس میں آپ نے ارشاد فرمایا:
نَحْنُ وَاللَّهِ! الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى الَّتِي لَايَقْبَلُ اللَّهُ مِنَ الْعِبَادِ عَمَلًا إِلَّا بِمَعْرِفَتِنَا؛ خدا کی قسم! ہم ہی اللہ کے وہ اسمائے حسنی ہیں جن کی معرفت کے بغیر، اللہ کسی بندے کے کسی عمل کو قبول نہیں کرتا(سید ہاشم بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، ج٢، ص ٦١٧).
ملا خلیل قزوینی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: چونکہ خداوند عالم نے اپنے اسمائے حسنی کے ذریعے دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور امام صادق علیہ السلام نے اہل بیت علیہم السلام کو اسمائے حسنیٰ کا ایک اہم مصداق قرار دیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت کو وسیلہ بنائے بغیر خدا کسی کی دعا قبول نہیں کرتا؛ کیونکہ معرفت اہل بیت ہی معرفت خدا، اجابت دعا اور قبولی اعمال کی شرط ہے(ملا خلیل قزوینی، الشافی فی شرح الکافی، ج٢، ص ٤٠١).
اسی سلسلے میں تفسیر عیاشی کی ایک روایت کے مطابق امام علی رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
إِذَا نَزَلَتْ بِكُمْ شدةٌ فَاسْتَعِينُوا بِنَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ هُوَ قَوْلُهُ وَ لِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى فَادْعُوهُ بِها؛ جب بھی تم پر کوئی سختی اور پریشانی آئے تو ہمارے وسیلے سے خدا کی بارگاہ میں مدد طلب کرو کیونکہ خدا نے فرمایا ہے کہ بہترین نام صرف اسی کے ہیں اور اس کو انہی ناموں کے ذریعے سے پکارو(محمد بن مسعود عیاشی، تفسیر عیاشی، ج۲، ص ٤٢). شیخ مفید نے بھی اسی حدیث کو اپنی کتاب الاختصاص میں مختصر فرق کے ساتھ نقل کیا ہے(رجوع کریں: شیخ مفید، الاختصاص، ص ٢٥٢).
یہی وجہ ہے کہ ہم محمد و آل محمد علیہم الصلوۃ والسلام کو وسیلہ بنا کر اور ان کے بعض القاب و اوصاف کا سہارا لے کر خداوند عالم کو پکارتے اور اس کی بارگاہ سے اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں.
ذیل میں امام محمد تقی علیہ السلام کے وسیلے اور ان کے القاب کے توسط سے مانگی جانے والی دعاؤں کے چند نمونے پیش کرتے ہیں:
دعائے توسل میں آپ کا واسطہ دے کر یوں عرض کرتے ہیں:
یا اَبا جَعْفَرٍ یا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِی اَیُّهَا التَّقِىُّ الْجَوادُ یَا بْنَ رَسُولِ اللّهِ یا حُجَّهَ اللّهِ عَلى خَلْقِهِ یا سَیِّدَنا وَمَوْلینا اِنّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ اِلَى اللّهِ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَىْ حاجاتِنا یا وَجیهاً عِنْدَ اللّهِ اِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللّهِ؛ اے ابوجعفر، اے محمد بن علی، اے تقویٰ کے پیکر (تقی) اور جود و سخا کے مرکز (جواد)؛ اے رسولِ خدا کے فرزند، اے اللہ کی مخلوق پر اس کی حجت؛ اے ہمارے آقا اور ہمارے مولا! ہم آپ ہی کی طرف متوجہ ہوئے ہیں، آپ ہی کو اپنا شفیع بنایا ہے اور آپ ہی کے وسیلے سے اللہ کی طرف بڑھے ہیں. ہم نے اپنی حاجتوں کی پیشی سے پہلے آپ کو (بطورِ واسطہ اور وسیلہ) سامنے رکھا ہے. اے اللہ کے حضور صاحبِ آبرو! اللہ کی بارگاہ میں ہماری شفاعت فرمایئے(شیخ عباس قمی، مفاتیح الجنان).
دعائے توسل غیر معروف میں جب آپ کے نام اور ذکر تک پہونچتے ہیں تو آپ کی نمایاں صفت جود و احسان کو نظر میں رکھتے ہوئے، اپنے لئے خدا کے جود و کرم، فضل و عطا، رزق میں وسعت، بے نیازی اور حاجت روائی کی درخواست کرتے ہوئے کہتے ہیں:
اللّهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُک بِحَقِّ وَلِیک مُحَمَّدِ بْنِ عَلِی عَلَیهِ السَّلامُ إِلّا جُدْتَ بِهِ عَلَی مِنْ فَضْلِک، و َتَفَضَّلْتَ بِهِ عَلَی مِنْ وُسْعِک، و َوَسَّعْتَ عَلَی رِزْقَک، و َأَغْنَیتَنِی عَمَّنْ سِواک، وَجَعَلْتَ حاجَتِی إِلَیک، و َقَضاها عَلَیک، إِنَّک لِمَا تَشاءُ قَدِیرٌ؛ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے ولی محمد بن علی (علیہ السلام) کے حق کے واسطے سوال کرتا ہوں کہ تو اپنے فضل سے مجھ پر جود و عطا فرما، اپنی وسیع رحمت سے مجھ پر احسان فرما، میرے رزق کو کشادہ کر دے اور مجھے اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز کر دے. میری حاجت کو اپنی ہی بارگاہ سے وابستہ فرما اور اس کا پورا کرنا اپنے ذمہ کر لے؛ یقیناً تو ہر اس چیز پر قادر ہے جس کا تو ارادہ کر لے(شیخ عباس قمی، مفاتیح الجنان).
اسی طرح امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے منقول دعائے عبرات میں بھی، جسے خاص کر مشکلات اور مصائب کی فراوانی میں پڑھا جاتا ہے، پروردگار کی بارگاہ میں امام محمد تقی علیہ السّلام کا اس طرح واسطہ دینے کے لئے کہا گیا ہے:
وَ بِالْإِمَامِ الْأَمْجَدِ وَ الْبَابِ الْأَقْصَدِ وَ الطَّرِيقِ الْأَرْشَدِ وَ الْعَالِمِ الْمُؤَيَّدِ يَنْبُوعِ الْحُكْمِ وَ مِصْبَاحِ الظُّلَمِ سَيِّدِ الْعَرَبِ وَ الْعَجَمِ الْهَادِي إِلَى الرَّشَادِ وَ الْمُوَفَّقِ بِالتَّأْيِيدِ وَ السَّدَادِ مَوْلَايَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوَاد؛ بار الٰہا! تجھے واسطہ ان کا جو مجد و بزرگی والے امام ہیں، (بارگاہِ الٰہی تک پہنچنے کا) قریب ترین دروازہ ہیں، سب سے سیدھا راستہ ہیں اور تأیید یافتہ عالم، حکمتوں کا سرچشمہ اور اندھیروں کے لئے روشن چراغ ہیں؛ عرب و عجم کے سید و سردار ہیں اور ہدایت کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں. وہ جنہیں اللہ کی طرف سے توفیق، تائید اور استقامت عطا کی گئی ہے؛ (یعنی) میرے مولا ابوجعفر محمد بن علی الجواد علیہ السلام کا واسطہ(ابراہیم بن علی عاملی کفعمی، البلد الأمين و الدرع الحصين، ص ٣٣٦).
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ابن مشہدی نے اپنی کتاب المزار الکبیر میں مختصر زیارت جامعۂ ائمہ معصومین کے عنوان کے تحت، امام محمد تقی علیہ السلام کے لئے انہی مذکورہ بالا الفاظ و اوصاف کو نقل کیا ہے جبکہ علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں اسے امام محمد تقی علیہ السلام کی مستقل اور مختصر زیارت کے طور پر بیان کیا ہے(ابن مشہدی، المزار الکبیر، ص ١٠٦؛ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج٩٩، ص ٢٢).
عہد طفولیت میں آپ کی جود و سخاوت
تاریخ امامت کے مختصر مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امام محمد تقی علیہ السلام عہد طفولیت سے مدینے میں اپنے والد بزرگوار حضرت امام رضا علیہ الصلوۃ والسلام کے امین، جانشین اور وکیل خاص قرار پائے کیونکہ آپ کا سن مبارک صرف پانچ برس کا تھا جب امام رضا علیہ السلام کو مدینے سے خراسان بلایا گیا. اس کمسنی اور خوردسالی کے عالم میں ہی آپ کے علم و فضل و شجاعت اور خاص کر جود و سخاوت کا چرچا مدینہ اور اطراف مدینہ میں ہونے لگا. بعض تاریخی اسناد و شہود کے مطابق امام رضا علیہ السلام اور آپ کے فرزند ارجمند امام محمد تقی علیہ السلام کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا اور اس دو سال کی مدت میں متعدد خطوط رد و بدل ہوئے؛ جن میں سے دو اہم خطوط ذیل میں ذکر کئے جا رہے ہیں، جن میں آپ کی جود و عطا اور امام رضا علیہ السلام کی اس سلسلے میں خصوصی سفارش اور تاکید کا ذکر موجود ہے.
خراسان سے امام رضا کا ایک خاص خط
شیخ کلینی کتاب کافی میں محمد بن ابی نصر بزنطی سے اس خط کے مضمون کو روایت کرتے ہوئے نقل کرتے ہیں:
عن اِبْنِ أَبِي نَصْرٍ قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي اَلْحَسَنِ اَلرِّضَا إِلَی أَبِي جَعْفَرٍ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ يَا أَبَا جَعْفَرٍ بَلَغَنِي أَنَّ اَلْمَوَالِيَ إِذَا رَكِبْتَ أَخْرَجُوكَ مِنَ اَلْبَابِ اَلصَّغِيرِ فَإِنَّمَا ذَلِكَ مِنْ بُخْلٍ مِنْهُمْ لِئَلاَّ يَنَالَ مِنْكَ أَحَدٌ خَيْراً وَ أَسْأَلُكَ بِحَقِّي عَلَيْكَ لاَ يَكُنْ مَدْخَلُكَ وَ مَخْرَجُكَ إِلاَّ مِنَ اَلْبَابِ اَلْكَبِيرِ فَإِذَا رَكِبْتَ فَلْيَكُنْ مَعَكَ ذَهَبٌ وَ فِضَّةٌ ثُمَّ لاَ يَسْأَلُكَ أَحَدٌ شَيْئاً إِلاَّ أَعْطَيْتَهُ وَ مَنْ سَأَلَكَ مِنْ عُمُومَتِكَ أَنْ تَبَرَّهُ فَلاَ تُعْطِهِ أَقَلَّ مِنْ خَمْسِينَ دِينَاراً وَ اَلْكَثِيرُ إِلَيْكَ وَ مَنْ سَأَلَكَ مِنْ عَمَّاتِكَ فَلاَ تُعْطِهَا أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةٍ وَ عِشْرِينَ دِينَاراً وَ اَلْكَثِيرُ إِلَيْكَ إِنِّي إِنَّمَا أُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَرْفَعَكَ اَللَّهُ فَأَنْفِقْ وَ لاَ تَخْشَ مِنْ ذِي اَلْعَرْشِ إِقْتَاراً؛ ابن ابی نصر کہتے ہیں: میں نے امام رضا علیہ السلام کا ایک خط پڑھا جو انہوں نے امام ابو جعفر (محمد تقی) علیہ السلام کو لکھا تھا: “اے ابوجعفر! مجھے اطلاع ملی ہے کہ جب آپ سوار ہوتے ہیں تو آپ کے ملازمین آپ کو (گھر کے) چھوٹے دروازے سے نکالتے ہیں۔ ان کا یہ عمل ان کے بخل کی وجہ سے ہے تاکہ کسی (ضرورت مند) کو آپ کے ذریعہ سے کوئی خیر و بھلائی نہ پہنچ سکے. میں آپ کو اس حق کی قسم دیتا ہوں جو میرا آپ پر ہے، آپ کی آمد و رفت صرف بڑے دروازے سے ہونی چاہئے. جب آپ سوار ہوں تو اپنے پاس سونا اور چاندی (رقم) رکھا کریں، پھر جو بھی آپ سے سوال کرے اسے (خالی ہاتھ نہ لوٹائیں بلکہ) عطا کریں. اگر آپ کے چچاؤں میں سے کوئی آپ سے نیکی (مدد) کا سوال کرے تو اسے پچاس دینار سے کم نہ دیں (زیادہ آپ کی مرضی ہے) اور اگر آپ کی پھوپھیوں میں سے کوئی سوال کرے تو اسے پچیس دینار سے کم نہ دیں (زیادہ آپ کی مرضی ہے). میں یہ سب اس لئے چاہتا ہوں کہ اللہ آپ کے مقام کو بلند فرمائے؛ لہذا انفاق کریں اور مالک عرش (خدا) سے تنگدستی کا خوف نہ رکھیں(شیخ کلینی، الکافی، ج٤، ص ٤٣).
امام رضا علیہ السلام کا یہ خط محض ایک خانگی نصیحت نہیں بلکہ اسلامی فکر کے کئی گہرے علمی اور مذہبی پہلوؤں کا مجموعہ ہے. قرآنی تناظر میں یہ خط ہمیں براہِ راست توکل اور انفاق کے فلسفے سے جوڑتا ہے، جہاں امامؑ “تنگدستی کے خوف” کو شیطان کا حربہ قرار دیتے ہوئے اپنے فرزند کو اس قرآنی حقیقت کی طرف متوجہ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راہ میں دینا دراصل الٰہی تجارت ہے جس میں خسارہ ممکن ہی نہیں. پھر انفاق کا یہ حکم صرف عام لوگوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ “اولی الارحام” یعنی قریبی رشتہ داروں کے حقوق کو مقدم رکھ کر اس قرآنی اصول کی عملی تصویر پیش کی گئی ہے کہ معاشی استحکام کا آغاز گھر اور خاندان سے ہونا چاہئے. اسی طرح عطاء و بخشش کے وقت سائل کی عزتِ نفس اور معاشرتی وقار کے تحفظ کے مد نظر “بڑے دروازے” اور “موقع پر عطا” جیسے مصادیق کا ذکر فرمایا.
امام رضا علیہ السلام کا ایک اور اہم خط
تفسیر عیاشی میں امام رضا علیہ السلام کے ایک اور خط کا تذکرہ کچھ اس طرح ملتا ہے:
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَی بْنِ زِيَادٍ قَالَ: كُنْتُ فِي دِيوَانِ أَبِي عَبَّادٍ فَرَأَيْتُ كِتَاباً يُنْسَخُ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا كِتَابُ اَلرِّضَا إِلَی اِبْنِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ مِنْ خُرَاسَانَ فَسَأَلْتُهُمْ أَنْ يَدْفَعُوهُ إِلَيَّ فَإِذَا فِيهِ بِسْمِ اَللَّهِ اَلرَّحْمَنِ اَلرَّحِيمِ أَبْقَاكَ اَللَّهُ طَوِيلاً وَ أَعَاذَكَ مِنْ عَدُوِّكَ يَا وَلَدِ فِدَاكَ أَبُوكَ قَدْ فَسَّرْتُ لَكَ مَا لِي وَ أَنَا حَيٌّ سَوِيٌّ رَجَاءَ أَنْ يُنْمِيَكَ اَللَّهُ بِالصِّلَةِ لِقَرَابَتِكَ وَ لِمَوَالِي مُوسَی وَ جَعْفَرٍ رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهُمَا فَأَمَّا سَعِيدَةُ فَإِنَّهَا اِمْرَأَةٌ قَوِيَّةُ اَلْحَزْمِ فِي اَلنَّحْلِ – وَ لَيْسَ ذَلِكَ كَذَلِكَ قَالَ اَللَّهُ مَنْ ذَا اَلَّذِي يُقْرِضُ اَللّٰهَ قَرْضاً حَسَناً فَيُضٰاعِفَهُ لَهُ أَضْعٰافاً كَثِيرَةً وَ قَالَ: لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمّٰا آتٰاهُ اَللّٰهُ وَ قَدْ أَوْسَعَ اَللَّهُ عَلَيْكَ كَثِيراً يَا بُنَيَّ فِدَاكَ أَبُوكَ لاَ تَسْتُرُ دُونِيَ اَلْأُمُورُ لِحُبِّهَا فَتُخْطِئَ حَظَّكَ وَ اَلسَّلاَمُ؛ محمد بن عیسیٰ بن زیاد سے روایت ہے کہ میں ابوعباد کے دیوان میں تھا، وہاں میں نے ایک خط دیکھا جس کی نسخہ برداری کی جا رہی تھی. میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ امام رضا علیہ السلام کا وہ خط ہے جو انہوں نے خراسان سے اپنے فرزند (امام محمد تقی علیہ السلام) کے نام لکھا ہے. میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ خط مجھے دیں؛ اس مکتوب میں تحریر تھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ آپ کو طویل عمر عطا کرے اور آپ کو آپ کے دشمنوں (کے شر) سے محفوظ رکھے. اے میرے پیارے بیٹے! آپ کا باپ آپ پر فدا ہو. میں نے اپنی زندگی اور مکمل صحت و سلامتی کی حالت میں اپنے اموال کی تفصیل آپ کے لئے واضح کر دی ہے (اور انہیں آپ کے اختیار میں دے دیا ہے)، اس امید کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے اپنے رشتہ داروں اور حضرت موسیٰ بن جعفر و جعفر بن محمد (علیہم السلام) کے چاہنے والوں اور عقیدت مندوں کے ساتھ صلہ رحمی اور مدد کی برکت سے آپ کے اجر و مال میں اضافہ فرمائے. رہی بات ‘سعیدہ’ کی، تو وہ بخشش و عطا کے معاملے میں بہت زیادہ احتیاط اور بچت کرنے والی خاتون ہیں، حالانکہ معاملہ ایسا نہیں ہونا چاہئے (جیسا وہ سمجھتی ہیں). کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ‘کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے تاکہ اللہ اسے اس کے لئے کئی گنا بڑھا دے؟’ اور اسی طرح ایک دوسری جگہ فرماتا ہے : ‘صاحبِ وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہئے اور جس کا رزق تنگ ہو، اسے اس میں سے خرچ کرنا چاہئے جو اللہ نے اسے عطا کیا ہے؛ اے میرے پیارے بیٹے! اللہ نے آپ کو بہت وسعت عطا فرمائی ہے، آپ کا باپ آپ پر فدا ہو. آپ اپنے مالی و دیگر معاملات کو ان کی پسندیدگی کی وجہ سے مجھ سے پوشیدہ نہ رکھیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے (عظیم اجر والے) نصیب سے محروم رہ جائیں. والسلام.”(محمد بن مسعود عیاشی، تفسیر عیاشی، ج١، ص ١٣١).
امام رضا علیہ السلام کا یہ با بصیرت مکتوب بھی انفاق اور سخاوت کے عمل کو صرف ایک سماجی فعل کے بجائے، براہِ راست اللہ پر توکل اور اس کے وعدوں پر یقین سے جوڑنے کے ساتھ؛ باپ اور بیٹے کے درمیان مکمل شفافیت اور اعتماد کا اہم درس دیتا ہے. اس خط میں “سعیدہ” خاتون کی مثال سے نیک کاموں میں ضرورت سے زیادہ “صرفہ جوئی” یا بچت کرنے کو منفی اور ناپسند قرار دیا گیا ہے، خاص کر جب انسان کے پاس اللہ کی دی ہوئی وسعت موجود ہو.
امام محمد تقی علیہ السلام کی بظاہر صغر سنی اور امام رضا علیہ السلام کی ان دونوں خطوط میں ایسی عظیم سفارشات، اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اخلاقیات و معنویات کی تربیت بچپنے ہی سے انجام پانا چاہئے، خورد سالی سے ہی انفاق اور ایثار کے جذبہ کو پروان چڑھانا ضروری ہے۔
(…ادامہ….)





