اسلامی معارف

فاطمہ(س)؛ کوثرِ نبوت

فاطمہ(س)؛ کوثرِ نبوت

رسول اللہؐ کے یہاں جناب خدیجہؑ سے ایک بیٹا پیدا ہواتھا جس کا نام “عبداللہ ” رکھا گیا، لیکن کچھ مدت بعد ان کی رحلت ہوگئی جس کی وجہ مشرکین کا ایک سردار عاص بن وائل ایک دن رسول اللہؐ کو مسجد الحرام سے نکلتے وقت دیکھ کر کچھ بحث کرنے لگا۔ اس منظر کو قریش کے کچھ سرداروں نے دیکھا تو عاص بن وائل سے پوچھا: “تم کس سے بات کر رہے تھے؟” اس نے کہا: “اُس «ابتر» سے!”۔ اسی طرح دوسری روایت کے مطابق بے اولادی کا طعنہ دینے والوں میں عمروبن‌عاص و حکم‌بن ابی‌عاص بھی تھا (تفسیر اهل بیتؑ، ج ۱۸، ص ۴۲۰ ۔ بحارالانوار مجلسی، ج ۲۲، ص ۱۶۶ و ج ۱۷، ص ۲۰۹) ۔ مشرکین کی اسی طعنہ زنی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کی حمایت اور دلداری میں سورہ کوثر نازل کرکے فرمایاکہ:

«إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ-فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ- إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ»؛ “بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا ہے لہذا آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی دیں یقینا آپ کا دشمن ابتر (بے اولاد) رہے گا “۔

مفسرین نے “کوثر ” کو بہت زیادہ خیر و برکت قرار دیا اور بیان کیا ہے: “اس سےمراد نبی اکرمؐ کی کثرت نسل ہے جو فاطمہ زہراؑ اور آپؑ کی اولاد کے ذریعہ ظاہر ہوتی رہیں گی “(تفسیرکبیر فخررازی، ج ۳۲، ص ۱۲۴ ۔ مجمع البیان طبرسی، ج ۱۰، ص ۸۳۵، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ج ۵، ص ۵۹۹-۵۶۰ وغیرہ) ۔

اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ سورہ کوثر کی تفسیر میں بہت زیادہ اقوال ہیں کہ کوثر سے مراد کیا ہے؟ لیکن سورہ کوثر کے نزول کے سبب کی روشنی میں کوثر کا سب سے عظیم اور بہترین مصداق صرف حضرت فاطمہ زہراؑ کی ذات ہی ہوسکتی ہیں جن کے ذریعہ نسل پیغمبرؐباقی ہےاور یہ الہی معجزہ ہے کہ جو لوگ بیٹے کو نسل کی بقاء کا ضامن سمجھ رہے تھے اور اپنے بیٹوں پر فخر کررہے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام طرح کے وہم و گمان کو باطل کرکے اپنے حبیبؐ کوفاطمہ ؑ جیسی “عظیم بیٹی” عطا فرمائی جو آنحضرتؐ کی “اکلوتی بیٹی” تھیں لیکن آپؑ کی نسل کثیر، ان کے باباؐ کے لئے “کوثر” بن گئی اور ان کے دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی مگر ان کی نابودی کاسبب بن گئی۔یعنی اللہ تعالیٰ نے “ایک” کو “کثیر” اور “کثیر” کو “ابتر” بنادیا۔ اللہ تعالیٰ کی اسی کرشمہ سازی پر تمام عقلیں حیران اور فکریں گنگ ہیں۔

متعلقہ مضامین

تبصره کریں

Back to top button