اسلامی معارف

جناب فاطمہ زہراؑ احادیث کی روشنی میں

تحریر: سید ہ نہاں نقوی۔ طالبہ جامعۃ المصطفیؐ العالمیہ۔ قم ایران

 فہرست مندرجات

مقدمہ

عظمتِ شہزادی کائناتؑ احادیث کی روشنی میں

خلاصہ

مقدمہ

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیؐ کی عظیم بیٹی حضرت فاطمہ زہرا ؑ اپنے بابا کے دنیا سے جانے کے بعد ایک لمحہ بھی سکون سے رہ نہ سکیں، مسلمانوں نے نبی ؐ کے جانے کے بعد، عظیم عظمتوں و بلندیوں کی مالک شہزادی کو بہت رلایا اور تڑپایا۔ اتنا ستایا کہ بی بی نے خو د مرثیہ پڑھا کہ: اگر اتنے مصائب دنوں پر پڑتے تو وہ رات کی تاریکی میں تبدیل ہوجاتے۔

کتنے بڑے ظالم و شرپسند تھے وہ لوگ جنہوں نے خود اپنی زندگی میں اپنے نبیؐ کو بارہا دیکھا کہ وہ اپنی بیٹی سے بے پناہ محبت کیا کرتے تھے، جب وہ نبیؐ کی خدمت میں تشریف لاتیں تو نبی ؐ اپنی جگہ چھوڑ کر اٹھ جاتے تھے اور پیار و احترام سے اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے، سفر پر جانے پر سب سے آخر میں آپؑ سے دواع ہوتے تھے، واپس لوٹنے پر سب سے پہلے آپ ؑسے ملاقات کرتے تھے، آپؑ کے دروازے پر آکر مسلسل سلام کیا کرتے تھے۔

اسی طرح خود شہزادی دو عالمؑ انفرادی اور اجتماعی طور پر بے شمار فضائل و مناقب کی مالک تھیں … پھر کیا قصور تھا، کیا جرم تھا کہ آپ ؑکے باباؐ کے جانے کے بعد آپؑ کے دراوازے کو مسلمانوں نے آگ کے شعلوں میں تبدیل کردیا، آپؑ کے پہلو کو شکستہ کردیا۔ شکم میں بچے کو شہید کردیا۔ شوہر کے گلے میں رسّی کا پھندا باندھ کر گھسیٹا گیا۔ بچوں کو بلکنے پر مجبور کردیاگیا۔ کسی نے مدد کے لئے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ باباؐ کا دیا ہوا، غریبوں کے کاموں و اخراجات پر خرچ ہونے والا فدک کا علاقہ چھین لیا گیا ۔ آپ ؑکے شوہر گرامی حضرت علیؑ کے الہی منصب امامت و خلافت کو چھین لیا گیا۔ اور آخر کار آپؑ کو شہید کردیا گیا۔ شہادت کے بعد بھی کیوں آپ ؑکے جنازے کو اندھیرے میں اٹھانا پڑا؟ کیوں جنازے میں صرف چند ہی لوگ شریک تھے؟ کیوں آج آپؑ کی قبر کا نشان بھی موجود نہیں ہے؟

ستم بالائے ستم یہ ہے کہ آج بھی کچھ لوگ ایسےہیں جو ان تمام تاریخی حقائق کا نے شرمی سے انکار کرتے رہتے ہیں؟ آخر اتنی دشمنی جناب فاطمہ زہرا ؑسے کیوں؟

عظمتِ شہزادی کائناتؑ احادیث کی روشنی میں

آئیے اس بی بی دوعالمؑ کے ایام شہادت کی مناسبت سے آپ ؑکی معرفت و شناخت کے حوالے سے چند احادیث کا سہارا لیں اور خود بھی اور دوسروں کو آپؑ کی عظمت بتائیں تاکہ دوسروں کے لئے حق و باطل واضح ہوجائے اور لوگوں کے لئے ہدایت کا سامان فراہم ہوسکے:

1- پیغمبر اکرمؐ: “جو شخص میری بیٹی فاطمہؑ کو دوست رکھتا ہے وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا اور جو بھی ان سے دشمنی رکھے گا وہ جہنم کی آگ میں ہوگا (بحار الانوار، ج ۲۷، ص ۱۱۶) ۔

2- پیغمبر اکرمؐ: “بیشک فاطمہؑ خلقت کے لحاظ سے انسانی شکل میں ایک حوریہ ہیں “(بحار الانوار، ج ۷۸، ص ۱۱۲) ۔

3- پیغمبر اکرمؐ: “میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہؑ اس لئے رکھا کہ خداوندعالم اس کے دوستوں کو جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے گا ” (عیون اخبار الرضا ع، ج ۲، ص ۴۶) ۔

4- پیغمبر اکرمؐ، حضرت امام علیؑ سے فرماتے ہیں:…”اے علی ؑ! جو کچھ فاطمہؑ آپ کو حکم دے، اسے انجام دیں۔اس لئے میں نے اسے ان چیزوں کا علم دیا ہے جسے جبرئیلؑ نے مجھے بتا یا ہے “(بحار الانوار، ج ۲۲، ص ۴۸۴)۔

5- پیغمبر اکرمؐنے امام علیؑ سے حضرت زہراؑ کے بارے میں پوچھا کہ علی ؑ، آپؑ نے زہراؑ کو کیسا پایا؟ تو جواب میں امام علیؑ نے عرض کیا: “فاطمہؑ کو میں نے اطاعت و بندگی خدا کے لئے بہترین مددگار پایا “(بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۱۱۷) ۔

6- پیغمبر اکرمؐ: “فاطمہ زہراؑ، میرے نزدیک تمام مخلوقات میں عزیز ترین ہے “(امالی شیخ مفید، ص ۲۵۹) ۔

7- پیغمبر اکرمؐ: “فاطمہؑ، میرا ٹکڑا ہے اور وہ میری آنکھوں کا نور ہے اور وہ میرے دل کا ثمرہ (میوہ دل) ہے “(امالی شیخ صدوق، ص ۴۸۶) ۔

8- پیغمبر اکرمؐ: “معلون ہے، ملعون وہ شخص جو میرے بعد میری بیٹی فاطمہؑ پر ظلم کرے اور اس کے حق کو غصب کرے ا ور اسے قتل کرے ” (بحارالانوار، ج ۷۳، ص ۳۵۴) ۔

۹- پیغمبر اکرمؐ: ” اے فاطمہؑ! … تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں “(بیت الاحزان، ص ۱۹؛ بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۳۲) ۔

۱۰- پیغمبر اکرمؐ: “بیشک اللہ، فاطمہؑ کے غضب سے ناراض ہوتا ہے اور فاطمہؑ کے خوشحال ہونے سے راضی و خوشنود ہوتا ہے ” (امالی شیخ مفید، ص ۹۴) ۔

۱۱- پیغمبر اکرمؐ: “اے فاطمہؑ! خداوندعالم نے جتنے بھی نبی مبعوث کئے ہیں اور جتنے بھی فرشتوں کو اپنی بارگاہ کا مقرب بنایا ہے ۔ اگر یہ سب مل کر بھی جو تمہارے حق کا غاصب ہوگا، اس کی شفاعت کریں گے تب بھی خدا وندعالم اس کو جہنم کی آگ سے خارج نہیں کرے گا ” (بحارالانوار، ج ۷۶، ص ۳۵۴) ۔

۱۲- پیغمبر اکرمؐ: “نبیوںؑ کے وجود سے سفرجل کی خوشبو آتی تھی، حورالعین کے وجود سے آس (ایک قسم کا پھل) کی خوشبو آتی ہے اور فرشتوں کے وجود سے گل سرخ (گلاب) کی خوشبو آتی ہے لیکن فاطمہ زہراؑ کے وجود سے سفرجل، آس اور گلاب تمام خوشبوئیں آتی ہیں “(بحارالانوار، ج ۶۶، ۱۷۷) ۔

۱۳- پیغمبر اکرمؐ، جناب سلمان فارسی سے فرماتے ہیں: “اے سلمان! بیشک خداوندعالم نے فاطمہ زہراؑ کے دل، اعضاء و جوارح، ہڈیوں (پورے وجود) کو ایمان و یقین سے بھرا ہوا ہے، اس طرح کہ وہ خدا کی اطاعت میں بہت زیادہ رغبت و شوق رکھتی ہے (بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۴۶) ۔

۱۴- پیغمبر اکرمؐ: “میں خورشید کی مانند ہوں، علیؑ چاند کی مانند ہے اور فاطمہؑ ستارہ زُہرا کی مانند ہے اور حسنؑ و حسینؑ ستارہ فرقدان کی طرح ہیں ” (بحارالانوار، ج ۲۴، ص ۷۴) ۔

۱۵- پیغمبر اکرمؐ: “اے فاطمہؑ! تمہارا بابا تم پر فدا ہو ” (بحارالانوار، ج ۲۲، ص ۴۹۰) ۔

۱۶- پیغمبر اکرمؐ: “میرے بیٹی فاطمہؑ کا نور، اللہ کے نور سے ہے، اور میری بیٹی تمام زمین و آسمان میں سب سے برتر و بلند مرتبہ ہے ” (بحار الانوار، ج ۱۵، ص ۱۰) ۔

۱۷- پیغمبر اکرمؐ: “…(روز قیامت کہا جائے گا): اے فاطمہؑ تمہیں مبارک ہو! کہ خداوندعالم کی بارگاہ میں تم اتنے بلند مقام محمود پر فائز ہو کہ تم اس مقام پر اپنے شیعوں اور چاہنے والے کے لئے شفاعت کرسکتی ہو ” (بحارالانوار، ج ۷۶، ص ۳۵۹) ۔

۱۸- پیغمبر اکرمؐ: “فاطمہؑ، انسانی شکل میں ایک حوریہ ہیں۔ میں جب بھی جنت کا مشتاق ہوتا ہوں تو اپنی بیٹی فاطمہؑ کی خوشبو سونگھتا ہوں “(کتاب التوحید، ص ۱۱۷) ۔

۱۹- پیغمبر اکرمؐ: “جنت چار عورتوں کی مشتاق ہے: ایک مریم، دوسرے آسیہ بنت مزاحم، تیسرے خدیجہ بنت خویلد اور چوتھے فاطمہؑ بنت محمدؐ”(بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۵۳) ۔

۲۰- پیغمبر اکرمؐ: ” میں نے فاطمہ زہراؑ کی شادی حکم و فرمان الہی سے کی تھی “(عیون اخبار الرضا، ج ۲، ص ۵۹)۔

۲۱- نبی اکرمؐ: “جو شخص بھی فاطمہؑ کی زیارت کرے، ایسا ہی ہے جیسے میری زیارت کی ہے “(بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۵۸) ۔

۲۲- امام علی ؑ، جناب فاطمہ زہراؑ کی بہ نسبت فخر کرتے ہوئے فرمایا: “میں بتولؑ کا شوہر ہوں جو تمام عالمین کی خواتین کی سردار ہیں ” (معانی الاخبار، ص ۵۸) ۔

۲۳- امام علیؑ: حضرت فاطمہ زہراؑ، اس قدر مَشک سے پانی نکالتی تھیں کہ اس کا اثر آپؑ کے سینے پر بن گیا تھا اور چکّی سے اتنا آٹا تیار کرتی تھیں کہ آپؑ کے ہاتھوں پر پھوڑے ہوگئے تھے اور اتنا گھر میں صفائی کا کام کیا کرتی تھیں کہ آپؑ کے لباس خاک آلود ہوجاتے تھے، اتنا چولہے میں آگ روشن کرتی تھیں کہ آپؑ کے کپڑے کالے و دھوئیں والے ہوجاتے تھے۔ آپؑ کو ان تمام کاموں کی وجہ سے سخت تکلیف اٹھانا پڑتی تھی ” (علل الشرائع، ج ۲، ص ۳۶۶) ۔

۲۴- امام علیؑ: “… حسنؑ و حسینؑ، دونوں اس امت کے دو سبط ہیں، یہ دونوں حضرت محمدؐ کے سر کے لئے دو آنکھوں کی مانند ہیں اور میں حضرت محمدؐ کے لئے بدن کی بہ نسبت ہاتھ کی طرح ہوں، اور فاطمہ زہراؑ، بدن کے لئے قلب کی مانند ہیں “۔ (بحارالانوار، ج ۳۹، ص ۳۵۲ ۔ کتاب سلیم بن قیس، ص ۸۳۰) ۔

۲۵- امام علیؑ: ” خدا کی قسم!… فاطمہ زہراؑ نے کبھی بھی مجھے غصہ نہیں کیا، کسی بھی کام میں میری مخالفت نہیں کی اور جب بھی میں ان پر نگاہ کرتا تھا، میرے تمام غم و اندوہ ختم ہوجاتے تھے “(بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۱۳۴) ۔

۲۶- امام محمد باقرؑ: “جناب فاطمہ زہرا ؑ کی اطاعت تمام مخلوقات؛ جن و انس، پرندوں، حشرات، انبیاء اور ملائکہ… سب پر واجب ہے “(دلائل الامامۃ، ص ۲۸) ۔

۲۷ ۔ امام محمدباقرؑ: “خداوندعالم، جناب فاطمہ زہراؑ کی تسبیح سے بہتر کسی اور چیز سے عبادت نہیں کیا گیا ہے “(اصول کافی، ج ۳، ص ۳۴۳) ۔ (خداوندعالم کی بہترین عبادت، جناب فاطمہ زہراؑ کی وہ تسبیح ہے جس میں ۳۴ بار اللہ اکبر، ۳۳ بار الحمد للہ، ۳۳ بار سبحان اللہ پڑھا جاتا ہے۔ اور یہ تسبیح آنحضرتؐ نے جناب فاطمہؑ کو تعلیم دی تھی، جس کو پاکر حضرت زہرا ؑ بہت زیادہ خوش ہوئیں تھیں) ۔

۲۸- امام محمد باقرؑ و امام صادقؑ: “کسی بھی انسان کی روح کے لئے حرام ہے (اسے اجازت نہیں کہ) انسان کے بدن سے خارج ہو جائے مگر یہ کہ پنج تن کی زیارت کرے، یعنی محمدؐ و علیؑ و فاطمہؑ و حسنؑ و حسینؑ کے دیکھے اور ان ذوات کو دیکھ کر انسان کی آنکھ یا روشن ہوجاتی ہےیا تاریک و غمگین ” (کشف الغمہ، ج ۱، ص ۴۱۴) ۔ (روایات کے مطابق ہر مرنے والا اگر اچھا ہو تو پنجتنؑ کی زیارت کرتا ہے اور خوش ہوجاتا ہے اور اگر برا ہوتا ہے تو پنجتنؑ کی زیارت اس کو اور غمگین بنا دیتی ہے) ۔

۲۹ ۔ حضرت امام صادق ؑ: “جو شخص بھی جناب فاطمہؑ کی حقیقی شناخت حاصل کر لے گویا اس نے شب قدر کو درک کرلیا ” (بحار الانوار، ج ۴۳، ص ۶۵)۔

۳۰- امام صادقؑ نے ایک شخص سے- جس نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ رکھا تھا۔ فرمایا: “اب جبکہ تم نے اس کانام فاطمہ رکھا ہے تو اسے برا بھلانہ کہنا، اس پر لعنت ملامت نہ کرنا، اور اسے مارنا نہیں “(کتاب کافی، ج ۶، ص ۴۸) ۔

۳۱ ۔ امام صادقؑ: “فاطمہ زہراؑ، دنیا کی تمام خواتین کے درمیان چمکتا ہوا ستارہ ہے “۔ (کتاب کافی، ج ۱، ص ۱۹۵) ۔

۳۲- امام صادقؑ: “فاطمہ زہراؑ، اول سے آخرتک تمام عالمین کی خواتین کی سردار ہیں “(معانی الاخبار، ص ۱۰۷)۔

۳۳- امام صادقؑ نے جناب فاطمہ زہراؑسے مخصوص نماز کے بیان میں فرمایا کہ آپؑ چار رکعت (دو، دو کرکے نماز صبح کی طرح) پڑھتی تھیں جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد پچاس سورہ “قل ھو اللہ ” پڑھتی تھیں۔ “من لا یحضرہ الفقیہ، ج ۱، ص ۵۶۴”۔

۳۴- امام صادقؑ: “جناب فاطمہ زہرا ؑ، ہر شنبہ کی صبح میں شہیدوں کی زیارت کے لئے جایا کرتی تھیں “(وسائل الشیعہ، ج ۲، ص ۸۷۹) ۔

۳۵- امام صادق ؑ: “یقینا اگر فاطمہ زہراؑ کی شادی، امیرالمومنین علی ابن ابی طالبؑ سے نہ ہوئی ہوتی تو زمین پر آدمؑ اور ان کے بعد کوئی بھی شخص حضرت فاطمہ زہراؑ سے شادی کے لائق نہ تھا (کتاب خصال شیخ صدوق، ج ۲، ص ۴۱۴) ۔

۳۶- امام صادقؑ: “بیشک ہمارے مومن شیعوں کے چھوٹے بچوں کی موت کے بعد جناب فاطمہ زہراؑ تربیت فرماتی ہیں ” (بحارالانوار، ج ۶، ص ۲۲۹ ۔ تفسیر علی ابن ابراہیم، ج ۲، ص ۳۳۲) ۔

۳۷- امام موسی کاظم ؑ:“بیشک فاطمہ زہراؑ، بہت سچی تھیں، جن کو شہید کردیا گیا تھا ” (اصول کافی، ج ۱، ص ۴۵۸) ۔

۳۸- امام کاظم ؑ: “جس گھر میں بھی محمد یا احمد یا علی یا حسن یا حسین یا جعفر یا طالب یا عبداللہ اور عورتوں میں فاطمہ نامی کوئی ہوگا تو اس گھر میں فقر و تنگدستی داخل نہیں ہوگی “(کتاب کافی، ج ۶، ص ۱۹)۔

۳۹- امام رضاؑ: “سب سے پہلے جس کے مرنے کے بعد، اس کے لئے تابوت بنایا گیا تھا وہ آنحضرتؐ کی بیٹی فاطمہ زہرا ؑ تھیں، درود ہو ان پر، ان کے باباؐ اور شوہر علیؑ پر اور ان کے دونوں بیٹوں ؑپر (بحارالانوار، ج ۷۸، ص ۲۴۹) ۔

۴۰- امام زمانہ (عج):“پیغمبرؐ کی بیٹی کی سیرت میں میرے لئے بہترین سرمشق زندگی ہے “(بحارالانوار، ج ۵۳، ص ۱۸۰) ۔

خلاصہ

خلاصہ یہ کہ ماہ جمادی الثانی وہ مہینہ ہے جس میں مشہور روایت کے مطابق ۳ جمادی الثانی سنہ ۱۱ ہجری میں (نبی اکرمؐ کی رحلت کے ۹۵ دن بعد) حضرت فاطمہ زہراؑ کی شہادت واقع ہوئی تھی۔ شہزادی کائناتؑ تمام بلند مقام و عظمت کے باوجود مظلومانہ طور پر شہید کردی گئیں اورصرف چند افراد کی موجودگی میں آپ ؑکو دفن کیا گیا تھا۔ اور وہ بھی دشمنوں کے خطروں کی وجہ سے امام علیؑ نے رات کے اندھیرے میں آپؑ کو نامعلوم مقام پر دفن کیا گیا اور آپؑ کے نشان قبر کوبھی مٹا دیا تھا تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے اور حکومتی افراد یہ جسارت نہ کریں کہ آپؑ کی نماز جنازہ پڑھنے کے بہانے سے قبر کو دوبارہ کھود پائیں جیسا کہ آپؑ کی تدفین کے دوسرے دن ہوا بھی یہی کہ جب آپؑ کی شہادت اور پوشیدہ طور پر تدفین کی خبر شہر مدینہ میں پھیل گئی تھی تو حکومتی افراد نے قبرستان کا رخ کیا تاکہ قبر کو کھود کر دوبارہ نماز پڑھے اور دفن کرے اورجیسے ہی امام علیؑ کو اس بات کا پتہ چلا تو نہایت غصے میں فورا پہنچ کر قبرستان کے راستے پر تلوار نکال کر کھڑے ہوگئے اور غصہ میں شیر کی مانند للکارنے لگے، لوگوں نے جب امام علیؑ کے غصے کی یہ مخصوص حالت دیکھی تو وہاں سے بھاگ گئے ۔

مگر سوالات آج بھی زندہ ہیں کہ جناب فاطمہ زہراؑ کا کیا قصور تھا اور کیا وجہ تھی کہ آپؑ کو آپ ؑکے باباؐ کی رحلت کے بعد اتنا جلدی اس دنیا سے جانا پڑ گیا؟ اور آپؑ کی قبر تک کا نشان باقی نہ رہا؟ ۔ کیوں امت مسلمہ نے آپ ؑ اور آپؑ کے گھرانے پرتمام ترمظالم ڈھائے جب کہ سب آپؑ کی شان و عظمت کو جانتے تھے؟ اور بعض موقعوں پر ان کا اعتراف بھی کیا تھا اور خود آنحضرتؐ نے آپؑ کی بزرگی و عظمت کو بیان کیا تھا؟ ۔

مظلومیت حضرت فاطمہ زہراؑ سے متعلق ان سوالات کو ہمیں تمام دنیا تک پہنچانے کی ضرورت ہے اس لئے کہ جو بھی ان سوالات پر واقعی طورپر غور و فکر کرے گا یقینا وہ ہدایت کی روشنی سے نزدیک ہوتا جائےگا۔ (والسلام علیکم)

متعلقہ مضامین

تبصره کریں

Back to top button