اسلامی معارف

“امام جواد علیہ السلام کی جود و سخاوت: عملی نمونے، حکایات اور اخلاقی ارشادات (قسط دوم)

تحریر: مولانا سید معظم حسین زیدی صاحب۔ طالب علم جامعۃ المصطفی(ص) العالمیہ۔ قم ایران

“امام جواد علیہ السلام کی جود و سخاوت: عملی نمونے، حکایات اور اخلاقی ارشادات (قسط دوم)

فہرست مندرجات

امام جوادؑ کی جود و سخاوت کے عملی نمونے اور حکایات

۱۔نقصان کی تلافی

۲۔ خراسانی مرد کی مشکل کشائی

۳۔مالی معاملات میں خصوصی رعایت (خمس کی معافی)

۴۔ غلاموں کی آزادی

۵۔ سجستانی شخص کی مدد اور حاکم سے سفارش

جود و سخاوت کے متعلق امام جوادؑ کے فرامین  و ارشادات

۱۔ سخاوت میں خلوص، علامت ایمان

۲۔ عدم سخاوت اور نعمتوں کی منتقلی

۳۔ عدم انفاق، زوالِ نعمت کا سبب

۴۔ کمزوروں پر رحم اور الہیٰ رحمت کا حصول

۵۔ کثرت صدقہ سے حصولِ رضوان الہی

۶۔ معروف نامی جنت کا ایک خاص دروازہ

۷۔ نیکوکار، نیک کام کے زیادہ محتاج

 امام جوادؑ کی جود و سخاوت کے عملی نمونے اور حکایات

عطا و بخشش ہمیشہ بزرگوں کا شیوہ اور ان کی بلند ہمتی کی نشانی رہا ہے. خاندانی شرافت، ہاشمی و علوی اصالت، امام رضا علیہ السلام کی تربیت اور خود آپ کے مستحکم عزم و ارادے نے آپ کے وجود میں وہ اثر ایجاد کیا کہ ظاہراً پچیس سال کی مختصر عمر ہونے کے باوجود وہ برکات و فیوضات آپ سے ظاہر ہوئے (اور آج بھی ہوتے رہتے ہیں) کہ دنیا آپ کو جواد الائمہ اور پیکر جود و عطا کے نام سے یاد کرنے لگی. اس سلسلے میں حدیثی اور تاریخی کتابوں میں آپ کے متعدد واقعات اور حکایتیں درج ہیں، جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے:

۱۔نقصان کی تلافی

علی بن حدید بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سفرِ حج کے اختتام اور حج بیت اللہ کی واپسی کے دوران چوروں نے ہمارے قافلہ کا سارا سامان لوٹ لیا۔ جب ہم مدینہ پہونچے اور میں امام محمد تقی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے میرے کچھ عرض کرنے سے پہلے ہی واقعے کی تفصیل اور میرے ساتھیوں کی تعداد جو مجھے ملاکر ٢٣ افراد پر مشتمل تھی بتا دی اور ہر فرد کا نام اس کی ولدیت کے ساتھ لیا پھر آپ نے مجھے ایک عظیم مقدار میں لباس اور نقدی عطا کرتے ہوئے فرمایا: اسے لے جاؤ اور اپنے دوستوں کے درمیان تقسیم کر دو، یہ اسی مقدار میں ہے جو تم سے لوٹا گیا ہے؛ علی ابن حدید کہتے ہیں کہ میں نے وہ سارا سامان لیا اور اپنے بھائیوں اور ساتھیوں کے درمیان تقسیم کیا تو خدا کی قسم! جیسا امام نے کہا تھا بالکل ویسا ہی ہوا یعنی عین اسی مال کے برابر پایا جو ہم سے لوٹا گیا تھا(حسین بن حمدان حضینی، ھدایۃ الکبری، ص ٣٠٢).

۲۔ خراسانی مرد کی مشکل کشائی

ایک خراسانی شخص جو واقفی اور امام کی امامت کا منکر تھا، آپ کے علمِ غیب اور رویے سے متاثر ہو کر تائب ہوا. اس نے امام کی خدمت میں ایک معینہ مقدار میں رقم پیش کرتے ہوئے کہا: (مولا) اس(ناچیز ہدیہ) کو مجھ سے قبول کرلیجئے. آپ نے فرمایا: میں نے اسے قبول کیا مگر تم اسے اپنے پاس رکھو کیونکہ تمہیں جلد ہی اس کی ضرورت پڑے گی؛ جب وہ شخص گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کے گھر میں چوری ہو گئی ہے اور وہی رقم اس کے کام آئی(نصیر الدین بن حمزہ طوسی، الثافب فی المناقب، ص ۵۱۸، حدیث ۴۴۹).

۳۔مالی معاملات میں خصوصی رعایت (خمس کی معافی)

امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے شیعوں کی معاشی مشکلات اور ظالم حکومتوں کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض سالوں میں خمس کے قوانین میں نرمی فرمائی. اس سلسلے میں آپ کا ایک خط جو آپ نے علی ابن مہزیار کو سن ٢٢٠ ہجری میں مرقوم فرمایا، نہایت اہم ہے. اس میں اپ نے آیات قرآنیہ کی روشنی میں خمس کے فلسفے اور مصارف کا تذکرہ کیا پھر اپنے حق خمس (سہم امام) کی مقدار اور متعلقات کو کم یا معاف کرنے کا اعلان کیا تاکہ شیعوں کی مشکلات کا جو انہیں حکومت کی طرف سے درپیش ہے، ایک وسیع حد تک جبران ہو سکے(شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ج۴، ص ١٤١، حدیث ٣٩٨).

۴۔ غلاموں کی آزادی

امام محمد تقی علیہ السلام کے ایک صحابی جن کا نام عبد الجبار بن مبارک نہاوندی ہے، بیان کرتے ہیں کہ میں سن ۲٠٩ ہجری میں آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا: “میں آپ پر فدا ہو جاؤں! میں نے سنا ہے کہ آپ کے آباؤ اجداد (ائمہ معصومین علیہم السلام) نے فرمایا ہے کہ اگر مسلمان غاصب حکمرانوں اور غیر امام کی قیادت میں جنگ میں شرکت کریں اور فتح یاب ہوں، تو تمام مالِ غنیمت امامِ معصوم کے اختیار میں دیا جانا چاہئے. کیا یہ روایت اور حدیث صحیح ہے؟” امام علیہ السلام نے فرمایا: “ہاں، یہ درست ہے.

میں نے عرض کیا: “میں آپ پر قربان جاؤں! ظالم خلفاء کی قیادت میں مسلمانوں کو ملنے والی بعض فتوحات کے دوران میں اسیر ہو گیا تھا اور مجھے جنگی غنیمت کے طور پر غلام بنا لیا گیا؛ تاہم آخر کار شرعی قوانین اور اسلامی معاہدوں کے تحت میں اپنے مالکان سے آزاد ہو گیا؛ لیکن جب مجھے اس مسئلے کی حقیقت معلوم ہوئی کہ جنگی غنائم تو امامِ معصوم کا حق ہوتے ہیں (تو میں نے سوچا کہ میں تو آپ کا حق تھا)، لہٰذا اب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ مجھے اپنے غلام اور بندے کے طور پر قبول فرما لیں. امام  نے فرمایا: میں نے قبول کیا.

پھر جب میں نے حج پر جانے کا ارادہ کیا تو دوبارہ امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میں آپ کا غلام ہوں اور غلام اپنے مولیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتا۔ میں نے حج بھی کیا ہے، شادی بھی کی ہے اور مسلمانوں کے درمیان تجارت و کسبِ معاش میں بھی مصروف رہا ہوں. اب میں مکمل طور پر آپ کے اختیار میں ہوں. امام محمد تقی علیہ السلام نے (نہایت شفقت سے) فرمایا: تم اپنے شہر اور وطن واپس جاؤ، تمہارا حج، تمہارا نکاح اور تمہارا روزگار سب صحیح اور حلال ہے.

عبدالجبار مبارک نہاوندی مزید بیان کرتے ہیں کہ جب سن ٢١٣ ہجری آیا، تو میں ایک بار پھر نویں امام کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور دوبارہ اپنی غلامی پیش کی. حضرت نے فرمایا: “تم اللہ کی راہ میں آزاد ہو!” میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں! یہ بات مجھے لکھ کر دے دیں!. اگلے دن امام نے اس طرح تحریر فرمایا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم. یہ خط محمد بن علی ہاشمی علوی نے اپنے بندے (غلام) عبداللہ بن مبارک کی آزادی کے بارے میں لکھا ہے. اے عبداللہ بن مبارک! میں نے تمہیں اللہ کی رضا کی خاطر اور روزِ قیامت کے سبب آزاد کر دیا ہے، اب اللہ کے سوا تمہارا کوئی مولیٰ نہیں ہے اور کوئی شخص تمہارا مالک نہیں ہے۔ تم میرے اور میرے بعد آنے والے ائمہ کے دوستوں میں سے ہو(محمد کاظم قزوینی، الامام الجواد من المهدی الی اللحد، ج۷، ص ۳۰۰).

۵۔ سجستانی شخص کی مدد اور حاکم سے سفارش

منقول ہے کہ اہالی بست و سجستان کا ایک شخص خلافت معتصم کے ابتدائی سال میں جب امام محمد تقی علیہ السلام حج پر تشریف لے گئے تھے، کہتا ہے کہ میں بھی امام کے ساتھ ہم سفر ہو گیا ایک دن آپ کے ساتھ دسترخوان پہ بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے امام کی خدمت میں عرض کیا: (مولا) میں آپ پر قربان جاؤں! ہمارا حاکم اہل بیت علیہم السلام کا چاہنے والا ہے اور آپ سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اس کے دیوان و دفتر میں میرے لئے بہت سنگین مالیات (اور جریمے) مرقوم ہیں؛ آپ مصلحت سمجھیں تو ایک خط لکھ کر میری مشکل کو حل فرما دیں. امام نے کاغذ اٹھایا اور اس حاکم کو ایک خط اس طرح تحریر فرمایا: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ  أَمَّا بَعْدُ  فَإِنَّ مُوصِلَ كِتَابِي هَذَا ذَكَرَ عَنْكَ مَذْهَباً جَمِيلًا وَ إِنَّ مَا لَكَ مِنْ عَمَلِكَ مَا أَحْسَنْتَ فِيهِ فَأَحْسِنْ إِلَى إِخْوَانِكَ وَ اعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ سَائِلُكَ عَنْ مَثَاقِيلِ الذَّرِّ وَ الْخَرْدَل‌؛ بسم اللہ الرحمن الرحیم. امّا بعد! میرا یہ خط لانے والے شخص نے آپ کی خوبصورت روش اور اچھے  طور طریقے کا ذکر کیا ہے. یقیناً آپ کے عمل میں سے آپ کے لئے وہی باعث ثواب (اور فائدہ مند) ہے جس میں آپ نے نیکی کی ہے؛ پس اپنے بھائیوں کے ساتھ احسان اور نیکی کیجئے اور جان لیجئے کہ اللہ عزوجل آپ سے ذرہ برابر اور رائی کے دانے کے برابر اعمال کے بارے میں بھی سوال کرنے والا ہے.

یہ سجستانی شخص مزید بیان کرتا ہے کہ جیسے ہی میں اپنے شہر میں داخل ہونے کا ارادہ کیا اور اس حاکم (حسین ابن عبداللہ نیشاپوری) کو میرے آنے کی اطلاع ملی، تو وہ دو فرسخ تک میرے استقبال کے لئے آیا، میں نے امام کا یہ خط اس کے حوالے کیا، اس نے پہلے خط کا بوسہ لیا، اپنی آنکھوں سے لگایا اور پھر مجھ سے کہنے لگا اپنی حاجت اور مشکل بیان کرو؛ میں نے کہا آپ کے دیوان میں جو مالیات میرے نام پر لکھی ہوئی ہے وہی میری سب سے بڑی مشکل ہے؛ اس نے فورا اس مالیات و خراج کو ہٹا دیا؛ اور ساتھ ہی ساتھ یہ اعلان کیا کہ جب تک میں یہاں پر اس عہدے پر باقی ہوں تمہیں مالیات اور خراج دینے کی بالکل ضرورت نہیں ہے؛ پھر اس نے میرے اہل و عیال کے بارے میں سوال کیا میں نے ان کے متعلق خبر دی تو اس نے میرے اور میرے اہل و عیال کے لئے مستقل ایک وظیفہ باندھ دیا اور جب تک وہ گورنر رہا میں نے اسے کوئی خراج ادا نہیں کیا اور اس کا معین کردہ وظیفہ بھی اس کے مرتے دم تک میرے اور میرے اہل خانہ کے لئے جاری رہا(شیخ کلینی، الکافی، ج۵، ص ۱۱۱ و ۱۱۲).

جود و سخاوت کے متعلق امام جوادؑ کے فرامین  و ارشادات

امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنی احادیث میں سخاوت، انفاق، نیکی، صدقہ اور حاجت مندوں کی حاجت برآوری جیسے کار خیر کا بارہا تذکرہ فرمایا اور ان کے حوالے سے اہم اصول بیان کرتے ہوئے ان کی رعایت کرنے کی درخواست و تاکید فرمائی ہے. جس کے چند نمونے حسب ذیل ہیں:

۱۔ سخاوت میں خلوص، علامت ایمان

امام محمد تقی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

اربع من کن فیه استکمل الایمان؛ من اعطی لله و منع فی الله و احب لله و ابغض فیه؛ چار صفات ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی وہ پائی جائیں اس کا ایمان کامل ہو گیا: وہ شخص جو اللہ کی خاطر (مال) عطا کرے؛ اللہ ہی کی خاطر (کچھ دینے سے) منع کرے اور ہاتھ روکے؛ جو اللہ کے لئے محبت کرے اور اللہ ہی کی راہ میں بغض رکھے(علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج۸۱، ص ۷۵).

۲۔ عدم سخاوت اور نعمتوں کی منتقلی

آپ نے صاحب ثروت لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا:  اِنَّ لِلهِ عِبادا یَخُصُّهُمْ بِالنِّعَمِ وَیُقِرُّها فیهِمْ ما بَذَلُوها فَإِذا مَنَعُوها نَزَعَها عَنْهُمْ وَحَوَّلَها اِلی غَیْرِهِمْ؛ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں جنہیں اس نے اپنی خاص نعمتوں کے لئے منتخب کر رکھا ہے اور ان نعمتوں کو ان کے پاس اس وقت تک برقرار رکھتا ہے جب تک وہ انہیں (دوسروں پر) خرچ کرتے رہتے ہیں لیکن جب وہ (عطا کرنے سے) ہاتھ روک لیتے ہیں، تو اللہ وہ نعمتیں ان سے چھین لیتا ہے اور دوسروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے(علی بن عیسی اربلی، کشف الغمۃ، ج۲، ص ٣٦٤).

۳۔ عدم انفاق، زوالِ نعمت کا سبب

اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:

ما عَظُمَتْ نِعَمُ اللّهِ عَلى اَحَدٍ إلاّ عَظُمَتْ إلَيْهِ حوائِجُ النّاسِ فَمَنْ لَمْ يَحْتَمِلْ تِلْكَ الْمَعُونَةَ عَرَّضَ تِلْكَ النـِّعمَةَ لِلزَّوالِ؛ کسی شخص پر اللہ کی نعمتیں اس وقت تک عظیم (اور برقرار) نہیں رہتیں جب تک کہ لوگوں کی ضرورتیں (حاجتیں) اس سے وابستہ نہ ہو جائیں؛ پس جو شخص ان لوگوں کی خدمت اور مدد کا بوجھ نہیں اٹھاتا، وہ اللہ کی دی ہوئی ان نعمتوں کو زوال (خاتمے) کے خطرے میں ڈال دیتا ہے(علی بن محمد ابن صباغ مالکی، الفصول المهمۃ، ج۲، ص ٢٧٤ و ٢٧٥).

۴۔ کمزوروں پر رحم اور الہیٰ رحمت کا حصول

ضعیفوں اور حاجت مندوں کی مدد کے حوالے سے آپ (ع) نے ارشاد فرمایا: «…وَ اِرْحَمُوا ضُعَفَاءَكُمْ وَ اُطْلُبُوا اَلرَّحْمَةَ مِنَ اَللَّهِ بِالرَّحْمَةِ لَهُمْ» “…اور اپنے کمزوروں پر رحم کرو اور ان پر رحم کرنے کے وسیلے سے ہی اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے رحمت طلب کرو(علی بن عیسی اربلی، کشف الغمۃ، ج۲، ص ٣٥٠).

۵۔ کثرت صدقہ سے حصولِ رضوان الہی

آپ نے صدقہ و خیرات کو خدا کی خوشنودی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:

ثَلاثٌ یَبْلُغَنَّ بِالْعَبْدِ رِضْوانَ الله: کَثْرَةُ الاْسْتِغْفارِ وَخَفْضُ الْجانِبِ وَکَثْرَةُ الصَّدَقَةِ؛ تین چیزیں بندے کو اللہ کی رضا (مقامِ رضوان) تک پہنچاتی ہیں: کثرت سے استغفار کرنا، لوگوں کے ساتھ عاجزی و انکساری سے پیش آنا اور کثرت سے صدقہ دینا(علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج۷۵، ص ٨١).

۶۔ معروف نامی جنت کا ایک خاص دروازہ

حضرت محمد تقی علیہ السلام نے اپنے خاص صحابی ابو ہاشم جعفری سے مخاطب ہو کر فرمایا:

إِنَّ لِلْجَنَّةِ بَاباً یُقَالُ لَهُ الْمَعْرُوفُ لَا یَدْخُلُهُ إِلَّا أَهْلُ الْمَعْرُوفِ؛ یقیناً جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ‘معروف’ (نیکی) کہا جاتا ہے، اس سے صرف وہی لوگ داخل ہوں گے جو (دنیا میں) نیکی کرنے والے تھے.

اس کے بعد ابو ہاشم مزید نقل کرتے ہیں کہ جب میں نے یہ سنا تو میں بہت خوش ہوا اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ مجھے لوگوں کی حاجت روائی کی توفیق ملی ہے. تب امام علیہ السلام نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: نعم قد علمت ما أنت عليه و ان أهل المعروف فى الدنيا أهل المعروف فى الآخرة جعلك الله منهم يا أبا هاشم و رحمك» “ہاں! (تمہاری نیت اور عمل کے بارے میں) جو میں جانتا ہوں اس پر ثابت قدم رہو؛ کیونکہ جو لوگ دنیا میں نیکی کرنے والے ہیں وہی آخرت میں بھی نیکی والے (اور سرخرو) ہوں گے. اے ابو ہاشم! اللہ تمہیں انہی لوگوں میں قرار دے اور تم پر اپنی رحمت فرمائے(ابن شہر آشوب مازندرانی، مناقب آل ابی طالب علیہ السلام، ج۳، ص ٥٣٢).

۷۔ نیکوکار، نیک کام کے زیادہ محتاج

امام محمد تقی علیہ السلام نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا:

اَهْلُ الْمَعْرُوفِ اِلَی اصْطِناعِهِ اَحْوَجُ مِنْ اَهْلِ الْحاجَةِ اِلَیْهِ، لاِنَّ لَهُ اَجْرَهُ وَفَخْرَهُ وَذِکْرَهُ، فَمَهْما اِصْطَنَعَ الرَّجُلُ مِنْ مَعْرُوفٍ، فَاِنَّما یَبْدَأُ فیهِ بِنَفْسِهِ فَلا یَطْلُبَنَّ شُکْرَ ما صَنَعَ اِلی نَفْسِهِ مِنْ غَیْرِهِ؛ نیکوکار لوگ کارِ خیر انجام دینے کے اس سے کہیں زیادہ محتاج ہیں جتنا کہ ضرورت مند ان کی نیکی کے محتاج ہوتے ہیں؛ کیونکہ اس نیکی کا اجر، فخر اور نیک نامی (صرف) نیکی کرنے والے ہی کو ملتی ہے. پس جب بھی کوئی شخص کوئی نیک کام کرتا ہے تو درحقیقت وہ اس کا آغاز اپنی ذات (کے فائدے) سے کرتا ہے؛ لہٰذا اسے اس نیکی پر جو اس نے دراصل خود اپنے ساتھ کی ہے، کسی دوسرے سے شکر گزاری کی توقع نہیں رکھنی چاہئے(علی بن عیسی اربلی، کشف الغمۃ، ج۲، ص ٣٤٧).

نتیجہ

مذکورہ مطالب کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام، اپنی مختصر عمر میں بھی سخاوت، بخشش، لوگوں کی مدد، غریبوں اور ضرورتمندوں کی حمایت، عدالت، اور معنوی بصیرت کے ایک ایسے ناقابلِ مُنازع پیکر ثابت ہوئے کہ آپ کا لقب “جواد الائمہ” نہ صرف تاریخی بلکہ روحانی اور اخلاقی طور پر بھی نمایاں ہوگیا۔  آپ کی زندگی توکل، انفاق، اور الٰہی وسعت پر مکمل یقین کا عملی نمونہ ہے، جو ہر زمانے کے مؤمن کے لیے راہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

جواد الائمہ، امام محمد تقی (علیہ السلام) کی جود و سخاوت پر ایک اجمالی نظر (قسط اول)

جواد الائمہ، امام محمد تقی علیہ السلام کی جود و سخاوت پر ایک اجمالی نظر

متعلقہ مضامین

تبصره کریں

Back to top button