بسم الله الرحمن الرحیم |  به اطلاع میرسانیم که در ماه اخیر مطلع شدیم که بعضی افراد سودجو با استفاده از نام بنیاد اختر تابان و به ظاهر به نمایندگی موسس این بنیاد، اقدام به درخواست وجوهات شرعی و کمک نقدی کردند. این امر مورد تایید بنیاد اختر تابان و موسس نمی‌باشد، و از عموم مردم تقاضی میشود که فقط از طریق راه‌های رسمی ارتباط بگیرند و ما نماینده غیر رسمی نداریم. والسلام علیکم. | سید کاظم رضوی موسس بنیاد اختر تابان | 16/3/1403ش. مطابق 5 جون 2024 م |

بنیاد اختر تابانسید کاظم رضوی

مراسم رونمایی کتاب عندلیبان علم و ادب

شیعه علماء و افاضل بہار کی حیات و خدمات کا تفصیلی جائزہ

             بنیاد اختر تابان شعبہ قم میں، شیعه علماء و افاضل بہار کی حیات و خدمات کے تفصیلی جائزے پر مشتمل دو جلدی کتاب”عندلیبان علم و ادب” کی رونمائی اور رسم اجراء کا اہتمام کیا گیا ہے۔
مذکورہ کتاب صوبہ بہار سے تعلق رکھنے والے جیّد علماء و افاضل کی حیات طیبہ اوران کی دینی و سماجی خدمات پر مشتمل ہے جس کو حجۃ الاسلام مولانا سید شاہد جمال رضوی گوپالپوری نے بڑی محنت و تحقیقات کے بعد تحریر فرمایا ہے، اس کتاب کو بنیاد اختر تابان- قم کے بانی و مدیر اعلیٰ حجۃ الاسلام سید مولانا سید کاظم رضوی حفید علامہ سعید اختر رضوی مرحوم اور شعور ولایت فاونڈیشن لکھنو کے تعاون سے منزل طباعت تک پہنچایا گیا ہے جس کی رونمائی اور رسم اجراء، بنیاد اختر تابان قم کے دفتر میں انجام پائی ہے۔
کتاب عندلیبان علم و ادب، دو جلدوں پر مشتمل ہے اور دونوں جلدوں میں ۲۲۷ علماء و افاضل بہار کی سوانح حیات، ان حضرات کی خدمات، تالیفات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مختصر تعارف کے عنوان سے مولانا سید شاہد جمال رضوی گوپالپوری اس طرح تحریر فرماتے ہیں کہ:
” بہارانتہائی اہم اور نامور سرزمین ہے، اس نے اپنی عمر رواں میں بہت سے بیش قیمت جواہرات کو اپنی محبت بھری گود میں سمیٹا اور بہت سے نگینوں کو قیمتی بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، یہ سرزمین ہمیشہ سے جید اور قابل علماء کی آماجگاہ رہی ہے ، یہاں ایک سے ایک شخصیتوں نے کسب علم و فیض کرکے اپنی جلوہ سامانیاں بکھیری ہیں ۔ ان کی زندگی میں دانش و تحقیق کا عمیق سمندر موجزن ہے اور شعر و ادب کا آبشار حقیقت جاری و ساری ہے ، یہ ہستیاں ایسے آفتاب کے مانند ہیں جس نے ڈوب کر بھی اپنے آثار و افکار اور کارناموں کی روشنی دنیا میں پھیلائی ہے۔
سورج ہوں روشنی کی رمق چھوڑ جاؤں گا                             میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا

متعلقہ مضامین

تبصره کریں

Back to top button
×